کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 121 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 121

تشد داور گرفتاریوں کا دور دورہ شروع ہو گیا۔شیخ عبداللہ کی گرفتاری مفتی ضیاء الدین کو ریاست سے نکالنے کے ساتھ ہی شیخ محمدعبداللہ کوگرفتار کر لیا گیا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی کوشش سے اب کئی نوجوان کام کے لیے تیار ہو چکے تھے چنانچہ حمد یوسف خاں صاحب بی۔اے ( جو بعد میں ایل ایل بی ہو کر وکیل بنے ) اور مفتی جلال الدین ایم۔اے کام چلاتے رہے اور صدر کمیٹی کو حالات کی اطلاع دے کر ہدایات حاصل کرتے رہے۔صوفی عبد القدیر نیاز سری نگر میں تھے۔ان کے نہایت دانش مندانہ مشوروں کی وجہ سے وادی کشمیر میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔لیکن ریاست کے نادان حکام نے محترم صوفی صاحب کو حکم دے دیا۔کہ چوبیس گھنٹے کے اندر حدود ریاست سے نکل جائیں۔دینا پڑا۔صوفی صاحب نے تحریری حکم کے بغیر نکلنے سے انکار کر دیا۔چنانچہ حکومت کو تحریری حکم وزیراعظم کی بدعہدی کے بعد مولانا در داور غزنوی صاحب جموں ہی رہے اور سید زین العابدین کو میر پور بھجوا دیا گیا۔ہم لوگ جموں سے ۳۱ /جنوری کو واپس ہوئے۔ابھی ہم جموں میں ہی تھے کہ ۲۹ جنوری ۱۳۲ء کو مسلم نمائندگان جموں کا وفد جس میں مولانا یعقوب علی ، چودھری غلام عباس، شیخ محمد امین ، اور سید محمد امین شاہ شامل تھے۔مہاراجہ سے ملا۔ایم یعقوب علی نے بڑی وضاحت سے مسلمانوں کا نقطہ نگاہ مہاراجہ کے سامنے پیش کیا مہا راجہ نے وفد کو ید همکی دی کہ اب مسلمان نرمی کے مستحق نہیں رہے۔مہاراجہ نے اپنی دھمکی کو سچ کر دکھایا اور بارہ مولا اور سوپور میں گولی چلا دی۔جس میں 125