کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 120 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 120

جس کے نتیجہ میں مطالبات کے لیے معقول جد و جہد بھی جاری رہے اور کوئی ایسا امر پیدا نہ ہو جو اشتعال پیدا کرنے والا ہو۔عین اس وقت جب امن کی بحالی کے لیے یہ کوشش ہو رہی تھی محترم صدر کمیٹی کا تارجموں میں مولا نا درد کو موصول ہوا کہ وو مفتی ضیا الدین کو کشمیر بدر کیا جارہا ہے۔یہ تار وزیر اعظم کو دکھایا گیا اور وفد نے ان پر یہ بات واضح کر دی کہ ایسے وقت میں جب کہ کشمیر کی فضا میں سکون ہے اور میر پور کے حالات کو پر امن بنانے کے لیے سعی جاری ہے۔یہ اقدام غیر دانش مندانہ ہے۔وزیر اعظم نے وفد کے ممبروں کے ساتھ یہ وعدہ کیا۔کہ جلاوطنی کے احکام واپس لے لیے جائیں گے۔مولانا درد نے غزنوی صاحب کو پھر پرائم منسٹر کے پرسنل اسٹنٹ جیون لال مٹو کے پاس بھیجا کہ پرائم منسٹر کے وعدہ کی تعمیل ہو جائے۔غزنوی صاحب ساری رات اس جدو جہد میں بھاگ دوڑ کرتے رہے۔تین بجے ڈاک بنگلہ پر جہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے۔واپس آئے اور بتایا اور ان کو مٹو صاحب نے یقین دلایا ہے کہ احکام واپس لے لیے گئے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ پرائم منسٹر نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے مفتی ضیاء الدین کو ریاست بدر کر دیا ہے۔انگریزی افواج کی آمد ۳۱ ء کے آخر میں جموں میں جب حالات مخدوش ہو گئے تھے۔تو انگریزی حکومت نے وہاں انگریزی علاقہ کی افواج کو نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے بھجوایا تھا۔جس سے ریاستی حکام بے دست و پا ہو گئے تھے۔اور جب تک انگریزی افواج حدود ریاست میں مقیم رہیں مسلمان گولیوں کی مشق سے محفوظ رہے لیکن جو نہی مہاراجہ کے زور دینے پر ان کو واپس بلا لیا گیا۔پھر پہلے کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔اور میر پور وغیرہ کے واقعات شروع ہو گئے اور ایک دفعہ پھر 124