کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 113 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 113

جب غیر ریاستی پلیڈر پیش نہیں ہو سکتا۔تو غیر ریاستی مختار خاص کس طرح پیش ہو سکتا میر صاحب کا موقف یہ تھا کہ پلیڈر کے لیے بے شک شرط ہے لیکن مختار خاص کے لیے یہ شرط ریاستی قانون میں نہیں رکھی گئی۔عدالت کوئی فیصلہ نہ کرسکی۔ہائی کورٹ سے استصواب کیا گیا۔ہائی کورٹ نے میر صاحب کے موقف کی تائید کی اور اس طرح یہ روک بھی ہمیشہ کے لیے دور ہوگئی۔کہاں ہے کمیٹی انہی دنوں ایک لطیفہ بھی ہوا وہ بیرسٹر صاحب جو سیالکوٹ سے مقدمہ کی پیروی کے لیے فیس وصول کر کے آیا کرتے تھے۔انہوں نے کسی اخبار میں یہ نوٹ شائع کروایا کہ کشمیریوں کے مقدمات کی پیروی میں کر رہا ہوں۔کہاں ہے کشمیر کمیٹی جو یہ دعویٰ کرتی ہے۔کہ ہمارے وکلا ء ریاست میں کام کر رہے ہیں۔حالانکہ واقعہ یہ تھا۔کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے وکلا ء اس وقت بھی پوری سرگرمی سے کام کر رہے تھے۔اتفاق کی بات ہے کہ اس نوٹ کے شائع ہونے کے دوسرے ہی دن مسلم اکابرین نے کمیٹی کے وکلاء کو کھانے پر مدعو کیا اور درخواست کی کہ گو آپ پہلے ہی ہم پر احسان کر رہے ہیں۔اگر اجازت دیں تو جو وکیل ہم نے نے بھاری فیس دے کر مقرر کیا ہوا ہے۔اب اُسے فارغ کر دیا جائے۔کشمیر کمیٹی نے وکلاء نے جواب دیا۔کہ ہم تو خدمت کے لیے ہی آئے ہیں۔ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔چنانچہ اس کے دوسرے روز ہی بیرسٹر صاحب فارغ کر دئیے گئے اور یوں وہ اپنی غلط ڈینگ کی بہت جلد سزا پا گئے۔117