کر نہ کر — Page 10
10 مباحثہ کر اور عموماً ذاتیات پر حملہ نہ کر۔تو کسی خُفیہ سوسائیٹی کا ممبر نہ بن۔تو آپ ہی بات کر کے آپ ہی نہ ہنسا کر۔تو صرف ایک پیر میں جوتی پہن کر نہ چل۔تو کسی جلسہ میں لوگوں پر سے پھلانگتا ہوا ہو تو اپنی رڈی اور گھر کا کوڑا کرکٹ بجائے ہر داخل نہ ہو۔جگہ بکھیرنے کے ایک ٹوکری میں ڈالا کر۔جو آدمی وسعت ہوتے ہوئے بھی شادی تو موذی جانوروں (پھڑ، سانپ ، بچھو نہ کرے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وغیرہ) کو ایذا دینے سے پہلے ہی مار دے کیونکہ یہ گناہ نہیں بلکہ ثواب ہے اور امت میں سے نہیں۔جو شخص عیالداری کے بوجھ کے خیال سے انسانوں پر رحم۔شادی نہ کرے وہ بھی آنحضور ﷺ کی تو مرد ہو کر کوئی زیور نہ پہن ( بجز چاندی کی انگوٹھی کے ) اُمت میں سے نہیں۔اگر تجھے توفیق ہو تو اپنے پاس ایک گھڑی ہو تو کھیل ، تفریح اور لہو ولعب کو صرف بقدر ضرورت استعمال کر۔ضرور رکھ۔یا تو بازار میں ننگے پیر اور منگے سر نہ پھر۔تو کسی کے سودے پر سو دا اور کسی کی نسبت حملا جب دو آدمی باتیں کر رہے ہوں تو تو اُن پر نسبت نہ کر۔جب تک پہلے معاملہ کا میں خواہ مخواہ دخل نہ دے۔فیصلہ نہ ہو جائے۔(سوائے نیلام کے ) تو اپنے کھانے پینے کی اشیاء کو گردو غبار اگر تو مالدار ہے تو اپنے جسم پر اس نعمت کی شکر گزاری کے آثار ظاہر کر۔سے بچا۔تو اپنی چھتوں اور دیواروں کو مکڑی کے جید اے خاتون ! تو کسی نامحرم سے مصافحہ نہ کر۔جالوں سے صاف رکھ۔اے خاتون ! تو مغربی عورتوں کی نقل میں و بِسْمِ اللهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ۔جَزَاكَ ا تو اپنی بات چیت میں سفیہا نہ الفاظ اپنے بال نہ کٹوا۔استعمال نہ کیا کر۔