کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 279

کرامات الصادقین — Page 47

كرامات الصادقين ۴۷ اُردو ترجمہ أَقَمْتُمْ جَلَالَ اللَّهِ فِي رُوحِ عَاجِرٍ وَهَيْهَاتَ لَا وَاللَّهِ بَلْ هُوَ اَحْقَرُ تم نے اللہ کے جلال کو ایک عاجز کی روح میں قائم سمجھ رکھا ہے۔نہیں۔اللہ کی قسم ! یہ بات حقیقت سے دور ہے۔بلکہ وہ تو ایک حقیر انسان ہے۔فَقِيرٌ ضَعِيفٌ كَالْعِبَادِ وَمَيِّتٌ نَعَمُ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ عَبْدٌ مُّعَزِّرُ وہ محتاج بندوں کی طرح کمزور اور مردہ ہے۔ہاں وہ خدا کے بندوں میں سے ایک معزز بندہ ہے۔وَ إِنْ شَاءَ رَبِّي يُبْدِ الْفَا نَظِيرَهُ وَأَرْسَلَنِي رَبِّي مَثِيْلًا فَتَنْظُرُ اور اگر میرا رب چاہے اس جیسے ہزار پیدا کر سکتا ہے اور میرے رب نے مجھے (اس کا ) مثیل بنا کر بھیج دیا ہے۔سوتو دیکھ رہا ہے۔وَ قَدْ اِصْطَفَانِي مِثْلَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ فَطُوبَى لِمَنْ يَأْتِينِ صِدْقًا وَ يُبْصِرُ اور اس نے مجھے عیسی بن مریم کی طرح برگزیدہ کیا ہے پس اس کے لئے خوشی ہے جو میر - پاس صدق سے آئے اور دیکھے۔انَبِيُّنَا مَيْتٌ وَّعِيسَى لَمْ يَمُتُ اَجَزْتُمْ حُدُودً ا يَابَنِي الْغُوْلِ فَاحْذَرُوا کیا ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تو وفات یافتہ ہیں اور عیسی نہیں مرا ؟ اے چھلاوے کی اولاد! تم حدود سے تجاوز کر گئے ہو۔سوڈ رو۔تُوُفِّيَ عِيسَى هَكَذَا قَالَ رَبُّنَا فَلَا تَهْلِكُوا مُتَجَلِدِينَ وَفَكِّرُوا عیسی وفات پا گیا ہے۔اسی طرح ہمارے رب نے فرمایا ہے۔پس تم جرات دکھاتے ہوئے ہلاکت میں نہ پڑو اور سوچ سے کام لو۔اَ تَتَّخِذُ الْعَبْدَ الضَّعِيفَ مُهَيْمِنًا اَتَعْبُدُ مَيْتًا أَيُّهَا الْمُتَنَصِرُ کیا تو ایک ضعیف بندے کو خدائے نگران بنا رہا ہے۔اے نصرانی ! کیا تو ایک مُردے کی پوجا کر رہا ہے۔۱۳۹