کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 279

کرامات الصادقین — Page 268

كرامات الصادقين ۲۶۸ اُردو ترجمه وقلت أتشتم امام الدنیا فی میں دنیا کے امام کو گالیاں دیتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ اللغات العربية ولا تخاف سے نہیں ڈرتا۔اور میں نے دیکھا کہ گویا مذکورہ ہستی من الله تعالى ورأيت كأن ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے میرے ہاتھ سے پکڑ لیا اور المذكور أيده الله تعالی مجھے لے کر علیحدہ ایک سیدھے راستے پر جو پھولوں قد أخذ بیدی و سلک ہی اور درختوں سے گھرا ہوا تھا چل پڑے اور آپ منفردا طريقًا مستقیما محفوفا نے مجھے کہا میں نے شام یا امرتسر میں سکونت بالأزهار والأشجار وقال لی اختیار کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔تمہاری اس إني قد أردتُ الإقامة إما في بارے میں کیا رائے ہے۔میں نے جواب دیا الشام أو في أمرتسر فما رأیک کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ شام میں رہیں في هذا فقلت له إن رأیی کیونکہ وہ اللہ کی زمین اور مسلمانوں کا قلعہ ہے اور أن تقيم في الشام فإنها أرض یہاں آپ شادی کریں اور اپنے لئے ایک گھر الله ومعقل المسلمين وبها بنائیں اور باغ اور زمین لیں۔اگر آپ میرے تتأهل وتبنى لك بيتًا و تتخذ ساتھ میرے مکان میں جس کا میں نے ذکر کیا بستانًا وأرضا و إن أقمتَ معى ہے رہیں تو وہ آپ کے لئے سب سے اچھا ہے اور في مکاني حيث ذكرت لک میں آپ کی ان تمام ضروریات کا متکفل فإنه أحسن وأتكفّل لک ہوں۔انہوں نے مجھ سے کہا انشاء اللہ میں وہی ذلك۔فقال لى إن شاء کروں گا جس کا آپ نے اشارہ کیا ہے اور میں الله أفعل ما أشرت به۔ورأيت نے دیکھا کہ ایک شخص لایا گیا جو طویل القامت، كان قد جیء برجل مدید سرخی مائل، سفید چہرے والا اور داڑھی والا ، پھٹے القامة أصهَبِ الوجه واللحية پرانے کپڑے پہنے ہوئے اور بدحال ہے گویا في ثياب رنّة وهيئة قبيحة كأنه كہ اس كے قتل کا ارادہ کیا گیا ہے۔اس کے بعد يراد قتله۔ثم هبتُ مِن رقدتی میں اپنی نیند سے اس خواب پر متعجب حالت | بجميع ۳۶۰