کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 279

کرامات الصادقین — Page 264

كرامات الصادقين ۲۶۴ اُردو ترجمه الجناب مقبل الأعتاب چشمے جاری رکھے۔آپ ہمیشہ خدا کی جناب میں فوجدتُها القدح المعلى بلند مرتبہ اور شرف باریابی پاتے رہیں۔پس میں نے والدرة اليتيمة والروضة اس کو عالی نصیب گوہر نایاب اور سرسبز بستان اور الأريـضـة والحديقة المثمرة پھلدار باغ پایا اور یہ کیوں نہ ہوتا کہ اس کا لکھنے والا وكيف لا ومــوجــدهـا ایسا ماہر مصنف ہے جس کی عظمت شان کی طرف ر يشار إليه بالأنامل انگلیوں سے اشارہ کیا جاتا ہے۔اور بحر بیکراں حبر۔وبحر ليس له من ساحل ہے۔گویا کہ میں نے اپنے ان اشعار میں آپ کو ہی فكأنما قد عنيته بقولي إذ مراد لیا ہے کیونکہ آپ اس کے سب سے مستحق اور كان به أحرى وبسره أدراى اس کے راز کوسب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔۔هيهات يوجد في الزمان نظيره زمانے میں اس کی نظیر ملنا بعید ہے اور میں قسم کھاتا ہوں ولقد حلفتُ بأنه لا يوجد کہ اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔اللہ کی قسم جو منٹی کی طرف بالله رب الراقصات إلى مِنی جانے والی سواریوں اور کھڑے ہوئے افراد جو راتوں والقائمين ظلامهم يتهجدوا کو اندھیروں میں تہجد ادا کرتے ہیں کا رب ہے۔فلله دره ولا فُض قوه پس آپ کی شان اقدس کے کیا کہنے۔ولا عـــدمـــه بــنـوه إذ قد آپ کا حسن دائمی رہے اور اس کی عمر لمبی ہو، أحسن وأجاد وبالغ فيما کیونکہ آپ نے اسے بہت ہی اچھا اور عمدہ بنایا اور اسے اپنی افادیت میں انتہا تک پہنچایا۔به أفاد۔۳۵۶