کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 279

کرامات الصادقین — Page 257

كرامات الصادقين اُردو ترجمه يَا أَيُّها البحر الذي ما مثله بحر وما لجميله إحصاء اے ( معرفت کے ) سمند ر ! جس جیسا نہ کوئی اور سمندر ہے اور نہ اس کی خوبیوں کی کوئی حد بست ہے۔بَلُ أَيُّهَا الغَيْثُ الذي أنواؤه فَعَلَتْ بما لا تفعل الأنواء ہاں اے وہ رحمت کی بارش ! جس کی عطا نے وہ کام کیا جونز ول بارش کی طرف منسوب ستارے نہیں کر سکے۔حیاک ربّي كلّما هبت صبا نَجْدٍ وما قد غنّتِ الوَرقاء جب جب نجد کی بادِ صبا چلے اور قمریاں گیت گائیں تو میرے رب کا تجھے سلام پہنچے۔أو ما تَرنَّمَ في مديحك مُنشِدٌ خضعت لرفعة مجدك العظماء یا جب کوئی تیری مدح میں نغمہ سرا ہو گا تو بڑے بڑے تیری رفعتِ شان کے آگے سر تسلیم خم کریں گے۔السيد محمد سعيد الشامي وله رحمه الله تعالى محترم محمد سعید شامی رحمہ اللہ کا ایک اور قصیدہ حمد غزير صادق الإذعان للهِ ربِّ دائم الغفران اللہ ، ہمیشہ مغفرت کرنے والے رب کے لئے بے پناہ حمد اور کچی تابعداری ہے۔فرد كثير العفو والإحسان مُنشِى الأنام ومُنزِل الفرقان وہ احد ہے۔بہت عفو و احسان کرنے والا ، مخلوق کو پیدا کرنے والا اور فرقان حمید کو نازل کرنے والا ہے۔۳۴۹