کرامات الصادقین — Page 219
كرامات الصادقين ۲۱۹ اُردو ترجمه فهو يشير إلى أن المحامد كلها لئے ہے اور اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لله بالاستحقاق۔وأما دعاء سب صفاتِ حسنہ بطور حق کے اللہ تعالیٰ کے لئے الإنجيل أعـنـى ليتـقـدس ہی (واجب) ہیں لیکن انجیل کی یہ دعا کہ اسمک، فلا يشير إلى كمال تیرے نام کی تقدیس ہو کسی کمال کی طرف بل يخبر عن خطراتِ زوال اشارہ نہیں کرتی بلکہ زوال کے خطرات کی خبر ويُظهر الأماني لتقديس الرحمن دیتی ہے اور خدائے رحمن کی تقدیس کے لئے كأن التقدس ليس له بحاصل محض خواہشات کا اظہار کرتی ہے گویا اُسے ابھی إلى هذا الآن۔فما هذا الدعاء تك تقدس حاصل نہیں۔پس یہ دُعا ایک قسم کا إلا من نوع الهذيان فإنك تعلم بے معنی کلام ہے اور کچھ نہیں کیونکہ تمہیں معلوم أن الله قدوس من الأزل إلى ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسا کہ اُس کی شان احدیت و الأبد كما هو يليق بالأحد بے نیازی کے شایاں ہے وہ ازل سے ابد تک الصمد فهو منزّه و مقدس من ہمیشہ قدوس ہے اور وہ تمام عیوب سے ہمیشہ كل التدنسات فی جمیع ہمیش کے لئے ابدالآباد تک منزہ اور مقدس الأوقات إلى أبد الآبدين وليس ہے۔وہ نہ کسی خوبی سے محروم ہے اور نہ آئندہ محروما ومن المنتظرين۔کسی بھلائی کے ملنے کا منتظر ہے۔ثم قوله تعالى الْحَمدُ للهِ پھر اللہ تعالیٰ کے کلام پاک الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ رَبِّ الْعَالَمِينَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ الْعَلَمِينَ سے ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک کی رد لطيف على الدهریین آیات میں ایک لطیف پیرایہ میں دہریوں، والملحدين والطبيعين الذين ملحدوں اور نیچریوں کے خیالات کی تردید ہے جو لا يؤمنون بصفات الله المجيد خدائے بزرگ و برتر کی صفات پر ایمان نہیں ويقولون إنه كعِلةٍ موجبة وليس رکھتے اور کہتے ہیں کہ وہ علت موجبہ کی طرح تو بالمدبّر المُريد ولا يوجد فيه ہے لیکن وہ مدبر بالا رادہ نہیں اور اس میں انعام ۳۱۱