کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 279

کرامات الصادقین — Page 215

كرامات الصادقين ۲۱۵ اُردو ترجمہ لطلب الأهواء الفانية والشهوات کر کے نفسانی قوی کو فانی خواہشوں اور مادی المتفانية مع الذهول عن آرزوؤں کے حصول پر ابھارتی ہے۔اس دُعا سعادات يوم الدين ومن جملة کے تمام جملوں میں ایک فقرہ یہ ہے یعنی ”تیرے جُمله فقرة أعنى لِيَتقدّسُ نام کی تقدیس ہو“۔اب اپنی عقل اور فہم سے کام اسمک فانظر فيها بعقلك لے کر اس پر غور کیجئے کہ آیا آپ اس دُعا کو اس و فهمك هل تجده حَرِیا کامل ترین ذات کے شان شایان پاتے ہیں جس بشأن الأكمل الذي ليست له کے جملہ کمالات کے لئے کوئی حالت منتظرہ باقی حالة منتظرة من حالات الکمال نہیں اور نہ اس کے تقدس اور جلال کے مراتب ولا مرتبة مترقبة من مراتب میں سے کوئی مرتبہ متوقع الحصول ہے۔یقیناً تمام التقدس والجلال۔فإن المحامد تعریفیں اور پاکیز گیاں اس بارگاہ عزت کے لئے والـتـقـدســات كلها ثابتة لحضرة ثابت ہیں۔ان میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جس کا العزة ولا يُنتظر شيء منها فی کسی آئندہ زمانہ میں ( ملنے کا ) انتظار ہو۔یہی الأزمنة الآتية وهذا هو تعليم قرآن کریم کی تعلیم ہے اور خدائے رحمان کے القرآن وتلقين كلام الله الرحمن کلام کی تلقین ہے جس کے متعلق ہم قبل ازیں كما مر كلامنا في هذا البيان۔وضاحت کر چکے ہیں۔اور جس شخص نے بھی ومن أقبل على الفرقان المجید قرآن مجید کی طرف توجہ کی۔اُسے سمجھا۔اس میں وفهمه وتدبر ونظره بالنظر تدبر سے کام لیا اور اس پر صحیح طور سے غور کیا اُس السديد فينكشف عليه أن پر یہ بات منکشف ہو جائے گی کہ قرآن کریم نے الفرقان قد أكمل فى هذا الأمر اس معاملہ کو مکمل طور پر بیان کیا ہے اور اس بات البيان وصرّح بأن الله كمالا تاما کی تصریح کر دی ہے کہ ہر انتہائی کمال اللہ تعالیٰ کو وكل كمال ثابت له بالفعل حاصل ہے اور اُس کے لئے ہر کمال بالفعل ثابت وليس فيه كلام وتجويز الحالة ہے اور اس میں کوئی کلام نہیں اور اس کے لئے کسی ۳۰۷