کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 279

کرامات الصادقین — Page 208

كرامات الصادقين ۲۰۸ اُردو ترجمه المضطرين۔والسجدة والتمرغ على تُرب آرزو میں کامیابی کے لئے قیام، رکوع اور سجدہ المذلة باسطًا ذيل الراحة کرتے ہوئے سوالیوں اور مجبوروں کی طرح ومتعرضًا للاستماحة كالسائلين تذلل کی خاک میں لتھڑ کر ہاتھ پھیلا پھیلا کر بخشش مانگتے ہوئے التجائیں کرتا رہے۔وجملةُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے جملہ میں حُسنِ عَلَيْهِمُ إشارة إلى رعاية ادب كى رعایت رکھنے اور خدائے پروردگار کے حسن الآداب والتأدب مع ساتھ ادب کا طریق اختیار کرنے کی طرف اشارہ رب الأرباب فإن للدعاء ہے کیونکہ دعا کرنے کے بھی کچھ آداب ہیں اور آدابا ولا يعرفها إلا من انہیں وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو ( اللہ تعالیٰ کی كان توابا ومن لا يُبالي طرف جھکنے والا ہو۔جو شخص ان آداب کی پروا الآداب فيغضب الله علیہ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اُس سے ناراض ہو جاتا إذا أصر على الغفلة و ہے۔جب وہ (اپنی) غفلت پر اصرار کرتا ہے اور ماتاب فلایری من تو بہ نہیں کرتا تو اُسے اپنی دعا سے (اپنی بداعمالیوں دعائه إلا العقوبة والعذاب کی سزا اور عذاب کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔فلأجل ذلك قلّ الفائزون پس اسی لئے دعا میں کامیابی حاصل کرنے والے في الدعاء وكثر الهالكون لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور تکبر ، غفلت اور ریاء لحجب العُجب والغفلة کے پردوں کی وجہ سے ہلاک ہونے والے زیادہ والرياء۔وإن أكثر الناس ہوتے ہیں کیونکہ اکثر لوگ جب دعا کرتے ہیں تو لا يدعون إلا وهم مشرکون ساتھ ہی شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اور غیر اللہ کی وإلى غير الله متوجهون طرف متوجہ ہوتے ہیں بلکہ زید و بکر کی طرف نگاہ بل إلى زيد وبكر ينظرون امید رکھتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ ایسے مشرکوں کی فالله لا يقبل دعاء المشركين دعاؤں کو قبول نہیں کیا کرتا اور انہیں اپنے بیابانوں