کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 279

کرامات الصادقین — Page 207

كرامات الصادقين ۲۰۷ اُردو ترجمہ راكب على أطوع مرکوب شریعت کی نگرانی میں جدھر چاہے ہانکتا ہے جیسے ولا يبغى الدنيا ولا يَتَعَنَّى ایک بہادر ترین سوار مطیع ترین سواری پر سوار ہو کر لأجلها ولا يسجد لعِجلها اسے ہانکتا ہو۔وہ دنیا کو نہیں چاہتا۔نہ اُس کی خاطر ويتولاه الله وهو يتولى اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے۔نہ دنیا کے الصالحين۔وتكون نفسه بچھڑے کو سجدہ کرتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کا متوتی ہو مطمئنة ولا تبقى كالمبيد جاتا ہے اور وہی صالحین کا متوتی ہے۔اس کا نفس المُضِلَّ ولا تُحملقُ حملقة مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ ہلاک اور گمراہ کرنے (۹۳) الباز المُطِل ویری مقاصد والے کی طرح نہیں رہتا۔اور بلندی سے شکار پر سلوکه کالکرام ولا تكون جھانکنے والے باز کی طرح آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سُحبه كالجهام بل يشرب دنیا کی طرف نہیں دیکھتا۔اور معزز لوگوں کی طرح كل حين من ماء معین اپنے سلوک کے مقاصد دیکھتا ہے۔اس کی وحدَّ الله عبادہ علی (فیاضی کے ) بادل ابر بے آب کی طرح نہیں أن يســــــــــألـــــوه ألوه إدامة ذلک ہوتے۔بلکہ وہ ہر وقت دوسروں کو صاف جاری المقام والتثبت عليه و پانی پلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو الوصول إلى هذا المرام ترغیب دلائی ہے کہ وہ اُس سے ان کے اس لأنه مقام رفیع و مرام منیع مقام پر دوام، ثابت قدمی اور اس مقصد تک پہنچنے لا يحصل لأحد إلا بفضل کے لئے التجا کیا کریں۔کیونکہ وہ ایک بہت ربه لا بجهد نفسه فلابد بی ارفع مقام ہے اور بلند مقصد ہے جوصرف ہی من أن يضطر العبد لتحصيل فضل الہی سے ہی کسی کو حاصل ہوتا ہے نہ کہ نفس هذه النعمة إلى حضرة کی کوشش سے۔پس ضروری ہے کہ بندہ اس العزة ويسأله إنجاح هذه نعمت کو حاصل کرنے کے لئے بڑے اضطرار سے المنية بالقيام والركوع بارگاہ ایزدی کی طرف بڑھے اور اُس سے اس ۲۹۹