کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 279

کرامات الصادقین — Page 205

كرامات الصادقين ۲۰۵ اُردو ترجمہ بقلب فارغ عن غيره خالی دل کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہو جاتا ہے وما قصد إلا الله في سبل اور اپنی راہ سلوک میں اللہ تعالیٰ کے سوا اس کا سیره و تاب من كل إدلال کوئی مقصود نہیں ہوتا اور وہ مال اور صاحب مال پر واغترار بمال و ذی مال کسی قسم کا ناز کرنے یا ان سے دھوکا کھانے سے وحضر حضرة الرب تائب ہو جاتا ہے۔اور بارگاہ رب العزت میں كالمساكين ووَذَرَ العاجلة مسکینوں کی طرح حاضر ہو جاتا ہے۔وہ دنیا کو وألغاها وأحب الآخرة و ترک کر دیتا ہے اور اس سے الگ ہو جاتا ہے اور ابتغاها وتوكل على الله آخرت سے محبت کرتا ہے اور اُسے ہی چاہتا وكان لله وفنی فی اللہ ہے۔اللہ تعالیٰ پر تو کل کرتا ہے اور خدا کا ہی ہو توکل وسعى إلى الله كالعاشقين۔جاتا ہے اور خدا میں ہی فنا ہو جاتا ہے اور فهذا هو الصراط المستقیم عاشقوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑتا آتا الذي هو منتهی سیر السالکین ہے پس یہی وہ صراط مستقیم ہے جو سالکوں کے ومقصد الطالبين العابدين۔سلوک کی انتہاء ہے اور طالبوں اور عابدوں۔وهذا هو النور الذى لا يحل کا آخری مقصود ہے اور یہی وہ نور ہے کہ جس الرحمة إلا بعد حلوله و کے اُترنے کے بغیر رحمت الہی نازل نہیں ہوا لا يحصل الفلاح إلا بعد کرتی اور اس کے حصول کے بغیر کوئی حقیقی حصوله وهذا هو المفتاح کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔یہ وہ کلید ہے جس کے الذي يُناجي السالك منه ذریعه سالک اپنے سینے کی باتیں رب کے حضور بذات الصدور و تُفتح مناجات میں ذکر کرتا ہے۔اور اس پر فراست عليه أبواب الفراسة ويُجعل کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور خدائے محدثًا من الله الغفور غفور کی طرف سے اُسے محدث قرار دیا جاتا ومن ناجي ربه ذات بـكـرة اور جو شخص صبح کے وقت اخلاص، خالص ہے۔۲۹۷