کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 279

کرامات الصادقین — Page 204

كرامات الصادقين ۲۰۴ اُردو ترجمه التقاة بعد مُقاناة العُصاة متقیوں کے زمرہ میں داخل کر دیتا ہے اور اُسے وأراه سبل الذين أنعم منعم عليهم کی راہیں دکھاتا ہے نہ کہ مغضوب عليهم غير المغضوب عليهم عليهم کی نہ ضآلین کی۔صراطِ مستقیم ولا الضالين۔وأما حقيقة كى حقيقت جو دین متین کے مد نظر ہے وہ یہ ہے الصراط المستقيم التي أُريدث کہ جب بندہ اپنے فضل واحسان والے خدا سے في الــديــن الــقــویم فھی محبت کرنے لگے۔اُس کی رضا پر راضی أن العبد إذا أحب ربَّه رہے۔اپنی رُوح اور دل اُس کے سپرد کر دے المنان وكان راضيا بمرضاته اور اپنے آپ کو اُس خدا کو سونپ دے جس نے (۹۲) وفوض إليه الروح والجنان انسان کو پیدا کیا ہے۔اُس کے علاوہ کسی اور کو نہ وأسلم وجهه لله الذي خلق پکارے۔اُسی سے خالص محبت رکھے۔اُسی سے الإنسان وما دعا إلا إياه مناجات کرے اور اُسی سے رحمت و شفقت صافاه وناجاه وسأله مانگے۔اپنی بے ہوشی سے ہوش میں آجائے۔اپنی الرحمة حمة والحنان و تنبه چال سیدھی کرے اور خدائے رحمان سے ڈرے۔من غشيـــه واسـتــقـــام فـي محبت النبى اُس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر مشيه وخشي الرحمن و شغفه جائے۔اللہ تعالیٰ اُس کی مدد کرے اور اُس کے الله حُبَّا وأعانَ وقوی یقین اور ایمان کو پختہ کرے۔تب بندہ اپنے اليقين والإيمـــان فـمــال پورے دل، اپنے فہم ، اپنی عقل، اپنے اعضاء اور العبد إلى ربه بكل قلبه اپنی زمین اور کھیتی باڑی سب کے ساتھ کلّی طور پر وإربـــه وعقله وجوارحه اپنے رب کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور اس کے سوا وأرضه وحقله وأعرض سب سے منہ موڑ لیتا ہے۔اُس کے لئے اس کے عما سواه وما بقى له إلا ربه اپنے رب کے سوا اور کچھ بھی باقی نہیں رہ جاتا۔وما تبع إلا هـواه وجاء ه وہ اپنے محبوب ہی کی پیروی کرتا ہے۔اور ۲۹۶