کرامات الصادقین — Page 189
كرامات الصادقين ۱۸۹ اُردو ترجمه فيصيران حقيقةً واحدةً يقع وہ دونوں (مُشَبَّہ اور مُشَبَّه به ) ایک ایسی عليهما اسم واحد ويُنسبون إلى حقيقت واحدہ بن جائیں گے کہ وہ ایک ہی نام مثال واحد كأن النبى المشبه به سے موسوم اور ایک ہی نسبت سے منسوب ہو نزل من السماء إلى أهل جائیں گے۔گویا مشبه به نبی خود آسمان سے الأرضين۔فهذا معنى قول النبی اہل زمین پر اتر آیا ہے۔پس ( حضرت ) عیسی صلى الله عليه وسلم فی نزول ابن مریم کے نزول کے بارے میں نبی کریم صلی عیسی ابن مریم علیہ السلام اللہ علیہ وسلم کے قول کا یہی مطلب ہے اور یہی وہ وهو الحق لا يُخالف القرآن حقیقت ہے جو قرآن کے مخالف و معارض نہیں ولا يعارضه و قد مضى مثله فی اور اس کی مثال پہلوں میں گزر چکی ہے۔اس الأولين۔فلا تجادِلُ بغیر الحق لئے تو ناحق بحث نہ کر اور منکروں میں سے نہ ہو۔ولا تكن من المنكرين قد تُوُفِّى ( حضرت ) عیسی (علیہ السلام) بھی اسی طرح عيسى كما تُوُفِّى الذين خلوا من فوت ہوئے ہیں جیسے آپ سے پہلے لوگ اور قبله وجاء وا من بعده۔فلا تخف آپ کے بعد کے لوگ اس جہاں سے گزر گئے۔قوما تركوا كتاب الله و نصوصه پس تو ایسے لوگوں سے نہ ڈر جنہوں نے کتاب اللہ وآثروا غير القرآن علی القرآن اور اس کی نصوص کو ترک کر دیا اور غیر قرآن کو و آثروا الشك علی الیقین قرآن پر مقدم رکھا اور شک کو یقین پر ترجیح دی۔وخَفِ اللَّهَ وقَهُرَه وَاعتَزِلُ تلک اللہ اور اس کے قہر سے ڈر اور ان تمام فرقوں سے الفرق كلها واعتصم بحبل الله الگ ہو جا اور اللہ کی محکم رسی کو مضبوطی سے تھام المتين۔ومن صرف عِنان التوجه لے۔اور جو شخص اپنی عنان توجہ کو اس آیت کی إلى هذه الآية وأمعن فيه حق طرف پھیرے گا اور اس پر پورا غور و خوض کرے گا الإمعان فيرى أنها شاهد علی تو وہ دیکھے گا کہ یہ آیت ہمارے اس بیان پر شاہد بياننا هذا ويكون من المذعنين۔ہے اور وہ اس کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دے گا۔۲۸۱