کرامات الصادقین — Page 12
كرامات الصادقين ۱۲ قصائد اور ایک تفسیر سورۃ فاتحہ کی ہے اور اگر چہ یہ قصائد صرف ایک ہفتہ کے اندر بنائے گئے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ چند ساعت میں لیکن بطالوی صاحب اور ان کے ہم مشرب مخالفوں کے لیے محض اتمام حجت کی غرض سے پوری ایک ماہ کی مہلت دیکر یہ اقرار شرعی قانونی شائع کیا جاتا ہے کہ اگر وہ اس رسالہ کی اشاعت سے ایک ماہ کے عرصہ تک اسکے مقابل پر اپنا فصیح بلیغ رسالہ شائع کردیں جس میں اسی تعداد کے موافق اشعار عربیہ ہوں جو ہمارے اس رسالہ میں ہیں اور ایسے ہی حقایق اور معارف اور بلاغت کے التزام سے سورہ فاتحہ کی تفسیر ہو جو اس رسالہ میں لکھی گئی ہے تو اُن کو ہزار روپیہ انعام دیا جائے گاور نہ آئندہ اُن کو یہ دم مارنے کی گنجائش نہیں ہوگی کہ وہ ادیب اور عربی دان ہیں یا قرآن کریم کی حقایق شناسی میں کچھ بھی اُن کو ٹس ہے۔اور میں نے سنا ہے کہ یہ گروہ علماء کا اپنے اپنے مکانوں میں بیٹھ کر اس عاجز کو ایک طرف تو کا ذب اور دجال اور کافر ٹھہراتے ہیں اور ایک طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص سراسر جاہل ہے اور علم عربی سے بکلی بیخبر۔سواس مقابلہ سے بتامتر صفائی ظاہر اور ثابت ہو جائے گا کہ اس بیان میں یہ لوگ کا ذب ہیں یا صادق اور چونکہ ان لوگوں کے دلوں میں دیانت اور خدا ترسی نہیں اس لئے اب میں نہیں چاہتا کہ بار بار اُن کی طرف توجہ کروں۔اور اگر چہ میں ایک صریح کشف کے رُو سے ایسے متعصب اور کج دل لوگوں کے ساتھ مباحثات کرنے سے روکا گیا ہوں جس کا ذکر میری کتاب آئینہ کمالات اسلام میں چھپ چکا ہے لیکن یہ مقابلہ نشان نمائی کے طور پر ہے اور بلحاظ تو رع وتقویٰ آئندہ یہ عہد بھی کرتا ہوں کہ اگر اب میاں محمد حسین بطالوی یا کسی دوسرے مولوی نے بغیر کسی حیلہ و حجت کے میرے ان قصائد اور تفسیر کے مقابل پر عرصہ ایک ماہ تک اپنے قصائد اور تفسیر شائع نہ کی تو پھر ہمیشہ کے لئے اس قوم سے اعراض کرونگا۔اور اگر اس رسالہ کے مقابل پر میاں بطالوی یا کسی اور اُنکے ہم مشرب نے سیدھی نیت سے اپنی طرف سے قصائد اور ۱۰۴