کرامات الصادقین — Page 11
كرامات الصادقين 11 کچھ عذر نہ ہوگا۔مگر دانشمندوں نے سمجھ لیا کہ بطالوی صاحب نے اپنی جان بچانے کیلئے یہ حیلہ نکالا ہے کیونکہ ان کو خوب معلوم ہے کہ عربی یا فارسی کی کوئی مبسوط تالیف سہو اور غلطی سے خالی نہیں ہو سکتی اور حیلہ جو کیلئے کوئی نہ کوئی لفظ گو سہو کا تب ہی سہی حجت پیش کرنے کیلئے ایک سہارا ہو سکتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بہت ہاتھ پیر مار کر اور مثل مشہور مرتا کیا نہ کرتا پر عمل کر کے یہ شرمناک عذر پیش کر دیا اور اپنے دل کو اس بازاری چال بازی سے خوش کرلیا کہ کسی ایک سہو کا تب یا فرض کرو اتفاقاً کسی غلطی کے نکلنے سے یہ حجت ہاتھ آجائے گی کہ اب غلطی تمہاری کسی کتاب میں نکل آئی اسلئے اب بحث کی ضرورت نہیں رہی۔لیکن افسوس کہ بطالوی صاحب نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی انسان کو بعد انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔جو شخص عربی یا فارسی میں مبسوط کتابیں تالیف کرے گا ممکن ہے کہ حسب منقولہ مشہورہ قَلَّمَا سَلِمَ مِكْتَار کے کوئی صرفی یا نحوی غلطی اُس سے ہو جائے اور باعث خطاء نظر کے اُس غلطی کی اصلاح نہ ہو سکے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ سہو کا تب سے کوئی غلطی چھپ جائے اور باعث ذہول بشریت مؤلف کی اسپر نظر نہ پڑے پھر اس یکطرفہ نکتہ چینی میں دونوں فریق کی علمی طاقتوں کا موازنہ کیونکر ہو۔غرض بطالوی صاحب کے ایسے بیہودہ جوابات سے یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ علم تفسیر اور علم ادب میں قسام حقیقی نے ان کو کچھ بھی حصہ نہیں دیا اور بجر لعن وطعن اور چال بازی کی مشق کے اور کچھ بھی اُن کے دل اور دماغ اور زبان کو لوازم انسانیت نہیں ملی اسی وجہ سے اوّل مجھے اُن کے اس قسم کے تعصبات کو دیکھ کر دل میں یہ خیال آیا تھا کہ اب ہمیشہ کے لئے ان سے اعراض کیا جائے۔لیکن عوام کا یہ غلط خیال دُور کرنے کے لئے کہ گویا میاں محمد حسین بطالوی یا دوسرے مخالف مولوی جو اس بزرگ کے ہم مشرب ہیں علم ادب اور حقائق تفسیر کلام الہی میں یدطولیٰ رکھتے ہیں قرین مصلحت سمجھا گیا کہ اب آخری دفعہ اتمام حجت کے طور پر بطالوی صاحب اور ان کے ہم مشرب دوسرے علماء کی عربی دانی اور حقائق شناسی کی حقیقت ظاہر کرنے کے لیے یہ رسالہ شائع کیا جائے اور واضح رہے کہ اس رسالہ میں چار ۱۰۳