کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 279

کرامات الصادقین — Page 134

كرامات الصادقين ۱۳۴ اُردو ترجمه وإن الـلـه تـعـالـى افتتح كتابه اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو حمد سے شروع کیا بالحمـد لا بالشكر ولا بالثناء ہے نہ کہ شکر اور ثنا سے کیونکہ لفظ حمدان دونوں الفاظ لأن الحمد يُحيط عليهما کے مفہوم پر پوری طرح حاوی ہے۔اور وہ ان کا بالاستيفاء وقد ناب منابهما مع قائمقام ہوتا ہے مگر اس میں اصلاح، آرائش اور الزيادة في الرفاء وفي التزئین زیبائش کا مفہوم مستزاد ہے۔چونکہ کفار بلا وجہ والتحسين۔ولأن الكفار كانوا اپنے بتوں کی حمد کیا کرتے تھے اور وہ ان کی مدح يحمدون طواغيتهم بغير حق کے لئے حمد کے لفظ کو اختیار کرتے تھے اور یہ عقیدہ ويؤثرون لفظ الحمد لمدحهم رکھتے تھے کہ وہ معبود تمام عطایا اور انعامات کے ويعتقدون أنهم منبع المواهب سرچشمہ ہیں اور سنیوں میں سے ہیں۔اسی طرح ان والجوائز ومن الجوادين کے مُردوں کی ماتم کرنے والیوں کی طرف سے وکذالک کان موتاهم يُحمدون مفاخر شماری کے وقت بلکہ میدانوں میں بھی اور عند تعديد النوادب بل فی ضیافتوں کے مواقع پر بھی اسی طرح حمد کی جاتی تھی الميادين والمآدب کحمد الله جس طرح اس رازق، متولی اور ضامن اللہ تعالیٰ کی الرازق المتولى الضمين؛ فهذا حمد کی جانی چاہیے۔اس لئے یہ (الحمد لله) رد عليهم وعلى كل من أشرك ایسے لوگوں اور دوسرے اللہ کا شریک ٹھہرانے بالله وذكر للمتوسّمين۔وفى والوں کی تردید ہے اور فراست سے کام لینے والوں ذلك يلوم اللہ تعالی عبدہ کے لئے نصیحت ہے۔اور ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ الأوثان واليهود والنصاری و کل بُت پرستوں ، یہودیوں، عیسائیوں اور دوسرے تمام من كان من المشركين۔فكأنه مشرکوں کو سرزنش کرتا ہے۔گویا وہ یہ کہتا ہے کہ اے يقول أيها المشركون لم مشرکو تم اپنے شرکاء کی کیوں حمد کرتے ہو اور اپنے تحمدون شركائكم وتُطرُون بزرگوں کی تعریف بڑھا چڑھا کر کیوں کرتے ہو؟ كبراءكم۔أهم أربابکم الذین کیا وہ تمہارے رب ہیں جنہوں نے تمہاری اور ۲۲۶