کرامات الصادقین — Page 101
كرامات الصادقين 1+1 اُردو ترجمہ سَلُوهُ يَمِينًا هَلْ أَتَانِي مُبَاهِلًا وَقَدْ وَعَدَ جَزْمًا ثُمَّ نَكَثَ تَعَمُّدَا اسے قسم دے کر پوچھو کیا وہ میرے پاس مباہلہ کے لئے آیا ؟ حالا نکہ اس نے پکا وعدہ کیا تھا پھر اس نے عمداً ا سے توڑ ڈالا۔فَخُذُ يَا إِلهِي مِثْلَ هَذَا الْمُكَذِبِ كَاخُذِكَ مَنْ عَادَى وَلِيًّا وَّ شَدَّدَا اے میرے خدا! اس جیسے مکذب کو گرفت میں لے۔جیسے تو گرفت میں لیتا ہے اس شخص کو جس نے ولی سے دشمنی کی اور اس پر سختی کی۔أَضَلَّ كَثِيرًا مِنْ صِرَاطٍ مُنَوَّرٍ تَبَاعَدَ مِنْ حَقِّ صَرِيحٍ وَ أَبْعَدَا بہت سے لوگوں کو اس نے منور راستہ سے گمراہ کر دیا۔وہ حق صریح سے دور رہا اور ( لوگوں کو بھی ) دور کیا۔قَدِ اخْتَارَ مِنْ جَهْلٍ رِضَاءَ خَلَائِقِ وَ كَانَ رِضَى الْبَارِئُ أَهَمَّ وَ أَوْ كَدًا اس نے نادانی سے مخلوق کی خوشنودی کو تر جیح دی حالانکہ اللہ کی رضا اہم اور زیادہ ضروری تھی۔وَمَا كَانَ لِيْ بُغْضٌ وَّ رَبِّي شَاهِدٌ وَ فِي اللَّهِ عَادَيْنَاهُ إِذْ حَالَ مَرْصَدَا مجھے اس سے کوئی ( ذاتی دشمنی نہ تھی اور میرا رب گواہ ہے۔اور ہم اللہ کی خاطر ہی اس کے دشمن ہوئے جب کہ وہ ( ہمارے راستے میں روک بن گیا۔يَسُبُّ وَمَا أَدْرِى عَلَى مَا يَسُبُّنِي أَيُلْعَنُ مَنْ أَحْيِي صَلَاحًا وَّ جَدَّدَا وہ گالیاں دیتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کس بات پر مجھے گالیاں دیتا ہے۔کیا ایسا آدمی بھی لعنت کیا جا سکتا ہے جس نے نیکی کو زندہ کیا اور دین کی تجدید کی؟ نَعَمْ نَشْهَدَنْ أَنَّ ابْنَ مَرْيَمَ مَيِّتٌ أَهَذَا مَقَالٌ يُجْعَلُ الْبَرَّ مُلْحِدًا ہاں ! ہم ضرور گواہی دیتے ہیں کہ ابنِ مریم مر چکا ہے۔تو کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جو ایک نیک کو ملحد بنا دے؟ ۱۹۳