کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 5
4 3 فَإِنَّكَ تَقْضِی وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ کیونکہ تو ہی فیصلے کرتا ہے اور تیری مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَّالَيْتَ سو وہ شخص ذلیل وخوار نہیں ہوسکتا جس کا تو دوست ہے۔وَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَ تَعَالَيْتَ اے ہمارے رب تو برکت والا اور بلندشان والا ہے۔وَ صَلَّى اللهُ عَلَى النَّبِيِّ الله۔اے اللہ تعالیٰ ہمارے نبی پر خاص فضل فرما ( جن کے ذریعہ سے ہمیں ایسی عمدہ دعاؤں کا علم حاصل ہوا) اَللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ (2) اے اللہ ہم تجھی سے مدد چاہتے ہیں اور تجھی سے بخشش چاہتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ وَنَشْكُرُكَ اور تجھ پر تو کل کرتے ہیں اور تیری ثناء کرتے ہیں اچھائی کے ساتھ اور تیرا شکر کرتے ہیں وَلَا تَكْفُرُكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ۔اور تیرا کفر نہیں کرتے اور الگ کرتے ہیں اور چھوڑتے ہیں اُس کو جو تیرا نا فرمان ہو اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ اے اللہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں وَالَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُوَنَرْجُو رَحْمَتَكَ اور تیری طرف دوڑتے ہیں اور خدمت کیلئے حاضر ہوتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں وَنَخْشَى عَذَابَكَ إِنَّ عَذَابَكَ بِالكُفَّارِ مُلْحِقِّ - اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں بے شک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔قیام اللیل از محمد بن نصر المروزی صفحہ 234 تحفتہ الفقہا بحوالہ فقہ احمد یہ عبادات صفحہ 198) یہ سب سے مشہور دعا ہے لیکن یہ حدیث کی کسی مستند کتاب میں نہیں ملتی۔البتہ بعض کتب احادیث میں درج ذیل الفاظ مختلف الفاظ کے ساتھ ملتے ہیں:۔وتروں کا وقت نماز عشاء سے لے کر طلوع فجر تک رہتا ہے تاہم سونے اور رات کے آخری حصہ میں اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد وتر ادا کرنا افضل ہے۔اگر رات کے آخری حصے میں اٹھنے کی عادت نہ ہو تو عشاء کے بعد ہی وتر پڑھ لینے بہتر ہیں۔وتر اکیلے پڑھے جاتے ہیں۔البتہ رمضان المبارک میں وتر کی نماز ، تراویح کی طرح باجماعت پڑھنا بھی مشروع ہے۔نماز تہجد عشاء کی نماز کے بعد جلدی سو جانا اور پھر پچھلی رات اٹھ کر عبادت کرنا اور نماز پڑھنا باعث برکت ہے۔رات کا آخری حصہ بالخصوص قبولیت دعا اور تقرب الى اللہ کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔کیونکہ اس وقت انسان اپنی میٹھی نیند اور آرام دہ بستر کو چھوڑ کر اپنے مولائے حقیقی کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے۔تہجد کی نماز آٹھ رکعت ہے۔آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ یہ نماز پڑھی ہے۔آپ تہجد کی نماز بالعموم دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے۔لمبی قرآت اور لمبے لمبے رکوع و سجود کے علاوہ خوب دعائیں کرتے۔پھر آخر میں تین رکعت وتر ادا فرماتے۔اسی طرح سے آپ بالعموم رات کے پچھلے حصہ میں کل گیارہ رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔نماز تراویح نماز تراویح دراصل تہجد ہی کی نماز ہے۔صرف رمضان المبارک میں اس کے فائدہ کو عام کرنے کے لئے رات کے پہلے حصہ میں یعنی عشاء کی نماز کے معاً بعد عام لوگوں کو پڑھنے کی اجازت دی گئی۔اس کا رواج حضرت عمرؓ کے زمانہ میں پڑا۔تاہم www۔alislam۔org