کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 34 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 34

61 60 وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ اور پہاڑ ڈھنکی ہوئی اُون کی طرح ہو جائیں گے۔فَا مَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ 6 پس وہ جس کے وزن بھاری ہو نگے۔فَهُوَ فِي عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ تو وہ ضرور ایک پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ اور وہ جس کے وزن ہلکے ہو نگے۔فَأُمُّهُ هَاوِيَةُ هُ تو اُس کی ماں ہاو یہ ہوگی۔وَمَا أَدْرَكَ مَا هِيَهْ اور تجھے کیا سمجھائے کہ یہ کیا ہے؟ نَارٌ حَامِيةٌ ۱۲ ایک بھڑکتی ہوئی آگ۔www۔alislam۔org سنت اور حدیث سنت اور حدیث کے مقام سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔”دوسرا ذریعہ ہدایت کا جو مسلمانوں کو دیا گیا ہے سنت ہے یعنی آنحضرت ﷺ کی عملی کاروائیاں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن شریف کے احکام کی تشریح کے لئے کر کے دکھا ئیں مثلاً قرآن شریف میں بظاہر نظر پنجگانہ نمازوں کی رکعات معلوم نہیں ہوتیں کہ صبح کس قدر اور دوسرے وقتوں میں کس کس تعداد پر لیکن سنت نے سب کچھ کھول دیا ہے۔یہ دھوکہ نہ لگے کہ سنت اور حدیث ایک چیز ہے۔کیونکہ حدیث تو سو ڈیڑھ سو برس کے بعد جمع کی گئی مگر سنت کا قرآن شریف کے ساتھ ہی وجود تھا۔مسلمانوں پر قرآن شریف کے بعد بڑا احسان سنت کا ہے۔خدا اور رسول کی ذمہ داری کا فرض صرف دو امر تھے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ قرآن کو نازل کر کے مخلوقات کو بذریعہ اپنے صلى الله قول کے اپنے منشاء سے اطلاع دے اور رسول اللہ ﷺ کا یہ فرض تھا کہ خدا کے کلام کو عملی طور پر دکھلا کر بخوبی لوگوں کو سمجھا دیں۔پس رسول اللہ ﷺ نے وہ گفتنی باتیں کردنی کے پیرا یہ میں دکھلا دیں۔اور اپنی سنت یعنی عملی کا روائی سے معظلات و مشکلات مسائل کو حل کر دیا۔تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے کیونکہ بہت سے اسلام کے تاریخی اور اخلاقی اور فقہ کے امور کو حدیثیں کھول کر بیان کرتی ہیں اور نیز بڑا فائدہ حدیث کا یہ ہے کہ وہ قرآن کی خادم اور سنت کی خادم ہے۔قرآن خدا کا قول ہے اور سنت رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور حدیث سنت کے لئے ایک تائیدی گواہ ہے“۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحه 63)