کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 18
30 30 29 میری دعائیں سُن لے اور عرض چاکرانہ تیرے سپرد تینوں دیں کے قمر بنانا یہ روز کر مبارک سُبحَــــــانَ مَنْ يَرَانِي وقار ہوویں فجر دیار ہوویں اہل حق پر ثار ہوویں مولی کے یار ہوویں با برگ و بار ہوویں اک سے ہزار ہوویں یہ روز کر مبارک سُبــــــــــان مـــن يـــــانــــى ۲۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب را به شریف احمد کو بھی پھل کھلایا کہ اس کو تو نے خود فرقاں سکھایا آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبشر اولاد میں سے تھے۔آپ کو علم قرآن وحدیث سے خوب واقفیت تھی۔آپ سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام تھا ”بادشاہ آیا آپ کے صاحبزادے مرزا منصور احمد صاحب آپ کی شاہانہ طبیعت اور سخاوت اور غریب پروری کا ایک عجیب واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ تقسیم ملک یعنی ۱۹۴۷ء کے بعد ہم شروع شروع میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں رہتے تھے۔وہاں ایک پان فروش تھا جس کا چھوٹا سا کھوکھا سڑک کے کنارے ہو تا تھا۔میں بھی کبھی کبھی اس سے پان لیتا تھا۔ایک دن وہ پان فروش مجھ سے پوچھنے لگا کہ وہ بزرگ جس کا کارخانہ ہے آپ کے کیا لگتے ہیں۔میاں منصور احمد صاحب فرماتے ہیں کہ شاید اس نے میرے نقوش سے اندازہ کیا ہوگا یا کبھی مجھے آپ کے ساتھ دیکھا ہوگا۔میں نے کہا کیوں کیا بات ہے؟ کہنے لگا۔ایک دن وہ ( یعنی حضرت مرزا شریف احمد صاحب) دکان پر تشریف لائے۔پوچھا کیا حال ہے؟ میں نے کہا کساد بازی ہے تو آپ سو روپے کا نوٹ جیب سے نکال کر www۔alislam۔org میرے ہاتھ میں تھما کر چل دیئے۔آپ نے سلسلہ کی بہت سی خدمات سرانجام دیں خاص طور پر ناظر تعلیم وتربیت اور ناظر اصلاح وارشاد کی حیثیت سے لمبا عرصہ آپ سلسلہ کی خدمت میں رہے۔بچوں کی تربیت میں بھی آپ بہت دلچسپی لیتے تھے۔۲۶ دسمبر ۱۹۶۱ء کو جلسہ سالانہ کے پہلے دن صبح کے وقت آپ کی وفات ہوئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ہے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔آپ کا پہلا نام کریم بخش تھا۔جب آپ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے تو آپ کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عبدالکریم رکھ دیا۔آپ اُردو انگریزی اور فارسی زبان بڑی روانی کے ساتھ بول سکتے تھے۔سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونے کے بعد آپ کو سلسلہ کی بہت بڑی خدمت سرانجام دینے کا موقع ملا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام میں آپ کو مسلمانوں کا لیڈر قرار دیا گیا۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ مشہور لیکچر جلسہ مذاہب عالم لاہور میں پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی جس کے متعلق حضرت اقدس کو الہام ہوا تھا کہ مضمون بالا رہا۔یہ لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔آپ کی آواز بہت بلند اور دلکش تھی۔آپ قرآن پڑھتے تو سننے والے مسلمان، ہندو اور عیسائی سب جھوم اٹھتے اور یوں معلوم ہوتا کہ فرشتے آسمان سے اتر