کامیابی کی راہیں (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 42 of 47

کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 42

78 77 گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے؟ خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبانہ کوئی جو پاک دل ہووے دل و جاں اس پہ قرباں ہے اے خدا اے کار ساز و عیب پوش و کردگار اے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار کس طرح تیرا کروں اے ڈوالمئن شکروسپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار بدگمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ کر دیا دشمن کو اک حملہ سے مغلوب اور خوار کام جو کرتے ہیں تیری رہ میں پاتے ہیں جزا مجھ سے کیا دیکھا کہ لطف و کرم ہے بار بار یہ سرا سر فضل و احسان ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے که تا روز قیامت ہو شمار www۔alislam۔org تخت سے آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار جس کو چاہے تخت شاہی پر بٹھا دیتا ہے تو جس کو چاہے تخت نیچے گرا دے کر کے خوار دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے اے مرے سورج نکل باہر کہ میں ہوں بیقرار اے میرے پیارے فدا ہو تجھ پہ ہر ذرہ مرا پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی مہار دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعف دین مصطفیٰ مجھ کو کر اے میرے سلطاں کامیاب و کامگار اور خود بیچا یا الہی فضل کر اسلام پر اس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سن لے پکار جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار و نزار ہے سر راہ پر مرے وہ خود کھڑا مولیٰ کریم پس نہ بیٹھو میری رہ میں اے شریران دیار کیوں عجب کرتے ہو گر میں آ گیا ہو کر مسیح خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ بادِ بہار آسمان پر دعوتِ حق کے لئے اک جوش ہے فرشتوں کا اتار ہو رہا ہے نیک طبعوں میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نور خدا جس سے ہوا دن آشکار