کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 41
76 75 36- كَانُوا كَمَشْعُوْنِ الْفَسَادِ بِجَهْلِهِمْ رَاضِينَ بِالًا وَسَاحَ وَالَا دُرَانِ وہ اپنے اکھڑ پن کی وجہ سے فساد کے شیفتہ تھے اور میل کچیل اور ناپاکی پر خوش تھے۔-37- عَيْبَانِ كَانَ شِعَارَهُمْ مِنْ جَهْلِهِمْ حُمْقُ الحِمَارِ وَ وَثُبَةُ السّرُ حَانِ ان کی جہالت کی وجہ سے دو عیب ان کے لازم حال تھے یعنی گدھے کی اڑ اور بھیڑئیے کا حملہ 38 - فَطَلَعْتَ يَاشَمُسَ الْهُدَى نُصْحالَّهُمُ لِتُضِيْتَهُمْ مِنْ وَجْهكَ النُّورَانِي سواے آفتاب ہدایت ! تو نے ان کی خیر خواہی کیلئے طلوع کیا تا اپنے نورانی چہرہ سے تو انہیں منور کر دے۔39- أرسلت مِنْ رَّبِّ كَـــريـمٍ مُّحْسِنِ فِي الْفِتْنَةِ الصَّمَّاءِ وَالطَّغَيَانِ تو رب کریم محسن کی طرف سے خوفناک فتنے اور طغیان وسرکشی کے وقت بھیجا گیا 40- يَالَلْفَتَى مَا حُسْنُهُ وَجِمالُهُ رَيَّاهُ يُصْبِى الْقَلَبَ كَالرَّيْحَان واہ! کیا ہی جوان مرد ہے! کیسے حسن و جمال والا ہے! جس کی خوشبو دل کو ریحان کی طرح موہ لیتی ہے۔www۔alislam۔org فضائل قرآن مجید جمال و حسن قرآں نور جان ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے نظیر اُس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے بہار جاوداں پیدا ہے اس کی ہر عبارت میں نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اُس سا کوئی بستاں ہے کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہر گز اگر کو کوئے عماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے خدا کے قول قول بشر کیونکر برابر ہو وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لاعلمی سخن میں اس کے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے بنا سکتا نہیں اک پاؤں کپڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اس خدا آساں ہے ارے لوگو! کرو کچھ پاس شان کبریائی کا زبان کو تھام لو اب بھی اگر کچھ ہوئے ایماں ہے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے خدا سے کچھ ڈرو یارڈ یہ کیسا کذب و بہتاں ہے؟ اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذات واحد کا تو پھر کیوں اس قدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے؟