کلمۃ الفصل — Page 7
كلمة الفصل جل ۱۴۶ خلاف بغاوت کا جھنڈا کھڑا کر نیوالا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گو یہود مسیح ناصری سے پہلے کے انبیاء اور مرسلین کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقین کرتے تھے لیکن سیح کے انکار کی وجہ سے وہ ایسے دور پھینکے گئے اور اللہ تعالیٰ کا وہ غضب اپر نازل ہوا کہ آج کے دن تک انکی قوم دنیا میں ذلت اور قمر کی نظر سے دیکھی جاتی ہے اور مسلمان تو خاص کر انکو منضوب علیہم کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اس کا سبب یہی تھا کہ انہوں نے اسلام کے اصولوں میں سے ایک اصل مینی ایمان بالرسل کو چھوڑا اور اسکو بھی پوری طرح نہیں چھوڑا بلکہ وہ بہت رسولوں پر ایمان لاتے تھے اور خاصکر حضرت موسیٰ جو صاحب شریعت نبی تھے انکی غلامی کا تو انکو خاص فخر تھائم صرف میسج کے انکار سے اپر لعنت کی مار پڑی اور موسی جیسے عظیم الشان نبی کی طرف منسوب ہونے کے باوجود بھی انکو کافر کا خطاب دیا گیا اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ خدا کے رسولوں کو نظر استخفاف سے دیکھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نام کو روشن کرنے کے لئے دنیا میں آتے ہیں پس جو انسے جنگ کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نام کو مٹانا چاہتا ہر اسلیئے خود اس کا نام و نشان صنفوۂ روزگار سے شادیا جاتا ہے۔یہ کہنا کہ اللہ تعالٰی کے بعض نہی تو مانتے کے قابل ہوتے ہیں مگر بعض نعوذ باللہ اس قابل نہیں ہوتے کہ پنیر ضر در ایمان لایا جاو ہر ایک لعنتی خیال ہے کیونکہ للہ تعالیٰ کے مرسلین نبی یا رسول ہونے میں ایک دوسرے کے برابر ہوتے ہیں اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کلا نفرق بين احد من رسله خدا دارم نے نبوت کو ایک سلسلہ کے طور پر اسی لیے رکھا ہے کہ تا اسی نور ایک خاص وقت میں محدود نہ ہو جاتے بلکہ مختلف زمانوں اور مختلف مقاموں میں اس کا ظہور ہو کیونکہ جس طرح ہر ایک دن کے بعد بات کا آنا ضروری ہے اسی طرح ہر ایک نبی کے بعد جسکے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا پر نور کا نزول ہوتا ہے ایسے زمانے کا آنا بھی ضروری ہے جو اندھیرے ہوش بہت رکھتا ہو یہ اس لیے ہے کہ زمانہ میں اللہ تعالٰی نے یہ تاثیر رکھدی ہے کہ وہ پرانے خیالات اور جذبات کو کمزور کرتا چلا جاتا ہے جیسے دیکھو آج اگر ایک عورت کا جوان بیٹا مر جا دے تو وہ کے صدمہ میں اسقدر غم والم کا اظہار کرے گی کریں قریب ہے کہ اپنے آپکو ہلاک کر دے لیکن ایک عرصہ کے بعد غم کا اور اسکے دل پر سے کم ہوتا چلا جائے گا حش کہ ایک دن آئین گا کہ دہ