کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 6 of 95

کلمۃ الفصل — Page 6

نمبر ریویو آف ریلیجنز 90 بنا ہے کسی ایک کا انکار کر دے اور مومن وہ ہے جو ان تمام اصول پر ایمان ہے آوے اسلام نے جو مذہب کے پانچ اصول بتائے ہیں وہ یہ ہیں اللہ تعالی پر ایمان لانگ پیر امان الله کے رسولوں پر ایمان اسی کتابوں پر ایمان اور یوم آخر پر ایمان ان پانچ اصولوں میں اگرکسی یک کا بھی کوئی منکر ہو جاو کی تودہ تمام فرقہ ہائے اسلام کی نظر میں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہوجاو ہے پس مومن نے اور کھلانے کیلئے ضرور ہی گیا کہ ان پانچ اصول پر ایمان لایا جاوے جن کو اسلام نے ایمان کی شرط قرار دیا ہے یہ ہے ایمان اور کفر کی تعریف جو اسلام نے ہم کو سکھائی ورنہ لغوی معنوں کے لحاظ سے تو شیطان کا انکار کر نیوالا بھی کافر ہے جیسا کہ خود قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی نسبت فرما یا من یکفر بالطاغوت لیکن یہ کفر وہ ہے جسکی نسبت ایک دین، بڑی دلیری کے ساتھ کہ سکتا ہے کہ ہے گر کفر میں بود بخدا سخت کا زرم ؛ پس اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئیے کہ بعض الفاظ کے لغوی اور اصطلاحی معنوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے کہ ایک وہ کفر ہے جو انسان کو شیطان کے پنجے سے چھڑا کر اللہ تعالیٰ کے دربار میں لاکھڑا کر تا ہے اور جسکی طرف آیت مزیکفر با الطاغوت کھلے لفظوں میں اشارہ کر رہی ہے اور ایک وہ کفر ہے جو لعنت کی صورت میں ایک مکذب انسان پر پڑتا اور ا سکو باری تعالی کے دربار سے ہٹا کر شیطان کے قدموں پر لا ڈالتا ہے جیہ الہ اللہ تعالی نے خودفرمایا ہے و الذين كفروا أولياء هم الطاغوت يخرجونهم من النور الى الظلامات ظاہر ہے کہ پہلا کفر لغوی کفر میں داخل ہے مگر دوسرا کفر اصطلاحی کفر ہے۔لغوی طور پر تو کفر کا لفظ ر انکار پر بولا جائیگا خواہ وہ اللہ کا انکار ہوا خواہ شیطان کا مگر اصطلاحی طور پر کافر رفت اسی شخص کو کہیں گے جو ایمان کے پانچ اصولوں میں سے کسی اصل کا انکار کرے۔اس جگہ چونکہ صرف ایمان بالرسل کی بحث ہے اس لیے ایمان کے اصولوں میں سے صرف اسی اصل پر بحث کیجائیگی۔سو واضح ہو کہ یہاں بالرسل کے یہ معنی نہیں کہ صرف اتنا رسالت گوحق مان لیا جاؤ بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ اللہ تعالی کے ہر ایک رسول پر ایمان لایا جاوے۔مومن کا فرض ہے کہ ہر ایک ایسے شخص کو قبول کرے جسکو اللہ تعالی نے رسول بنا کر دنیا میں بھیجا ہے کسی ایک سول کا منکر ایمان کی شرائط میں سے ایک نہایت ضروری شرط کو توڑنے والا اور خدائی حکومت کے