کلید دعوت

by Other Authors

Page 115 of 211

کلید دعوت — Page 115

(تتمہ حقیقته الوحی صفحه ۳۵) حضرت مسیح موعود پھر فرماتے ہیں:۔سو میں نے خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے۔جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و موٹی فخر الانبیاء اور خیرا اورٹی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی راہوں کی پیروی نہ کرتا۔سو میں نے جو کچھ پایا۔اس پیروی سے پایا اور میں اپنے بچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی ﷺ کے خدا تک نہیں پہونچ سکتا اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ پا سکتا ہے"۔(حقیقة الوحی صفحه (۱۳) بعض افراد امت محمدیہ کو جو کمال عاجزی اور تذلل سے آنحضرت ا کی متابعت اختیار اللیل کرتے ہیں اور خاکساری کے آستانہ پر پڑ کر بالکل اپنے نفس سے گئے گزرے ہوتے ہیں خدا ان کو فانی اور ایک مصفی شیشہ کی طرح پا کر اپنے رسول مقبول ﷺ کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ منجانب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہے یا کچھ آثار اور برکات اور آیات ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں حقیقت میں مرجع نام ان تمام تعریفوں کا اور مصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریم ہی ہوتا ہے"۔حاشیه در حاشیہ نمبر صفحه ۲۵۸) (براہین احمدیه الزامی جواب اگر حضرت مرزا صاحب کے اس شعر سے واقعی فضیلت مراد ہے تو درج ذیل تحریر سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔فقد بردا: حضرت بایزید۔سطامی کے بارہ میں لکھا ہے کہ :- گویا حق تعالی بایزید کی زبان پر خود بات کرتا ہے اور وہ یہ کہ " میرا جھنڈا امحمدی ال جھنڈے سے بڑا ہے جس طرح درخت سے اپنی انا اللہ کی آواز کا آنا جائز سمجھتے ہو۔اسی طرح لوائی اعظم من لواء محمد و سبحانی ما اعظم شانی میرا نشان نشان محمدی سے بڑا ہے اور میں پاک ہوں اور میری شان کیا ہے اعلیٰ ہے کا بایزید کے وجود کے درخت سے نکلنا جائز سمجھ لو"۔( تذكرة الاولياء فارسی صفحه ۱۵ اردو ترجمه صفحه (۱۱۳) پس حضرت مرزا صاحب پر یہ افتراء ہے کہ آپ نے آنحضرت ﷺ پر اپنی فضیلت ظاہر کی ہے۔