کلید دعوت — Page 114
وہ شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی دہی ایک پہلوان ہے۔جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع انسان کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین اور آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر افاضہ اس کے کسی فضیات کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی"۔اپنے منظوم کلام (جو کہ در ثمین کے نام سے طبع شدہ ہے) میں آپ فرماتے ہیں ت پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر کیک از خدائے برتر خیر الوری یہی ہے پھلوں سے خوب تر ہے خوبی میں اک قمر ہے اس پر ہر اک نظر ہے بدر الدعی یہی ہے اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے پھر عربی منظوم کلام آئینہ کمالات اسلام میں فرماتے ہیں۔انظر الى برحمة و تحنن يا سيدي انا احقر "الغلمان اس شعر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو احقر العلمان کہا ہے کہ اے میرے محبوب آقا میری طرف نظر شفقت فرما کیونکہ میں تیرے غلاموں میں سے بھی احقر ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شعر میں آنحضرت الله کی بیان کردہ ایک پیشگوئی کا ذکر کیا ہے جو خسوف و کسوف کے نشان کے طور پر اپنے امام مہدی کے بارے میں پوری ہونے پر مشتمل ہے۔اس پیش گوئی کا ذکر حدیث دار القلنی صفحہ ۱۸۸ میں ہے۔یہ نشان ۱۸۹۴ء / ۱۳۱ھ میں رمضان کے مہینہ میں روز روشن کی طرح پورا ہوا۔اس حدیث میں آپ نے فرمایا تھا کہ "ان لمهدینا ایتین " کہ ہمارے مہدی کیلئے دو نشان ظاہر ہوں گے (وہ نشان یہی ہیں جس کا تذکرہ مذکورہ بالا شعر میں کیا گیا ہے چنانچہ آنحضرت ا کی پیشگوئی کے مطابق ان نشانوں کا ظاہر ہونا بذات خود آنحضور ﷺ کی صداقت کے نشان ٹھہرے۔اس طرح پر آپ کے تین نشان ہوئے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آنحضور کیلئے ایک اور اپنے لئے دو نشانوں کا تذکرہ کیوں کیا۔در اصل اس شعر میں حضور نے صرف اس قدر بتایا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کی صداقت ایک نشان سے ثابت ہو جاتی ہے تو میری صداقت دو نشانوں سے کیوں ثابت نہیں ہو سکتی۔آپ کا مقصد فضیلت بیان کرنا نہیں بلکہ آپ تو فرماتے ہیں :۔جو کچھ ہماری تائید میں نازل ہوتا ہے دراصل وہ ب آنحضرت کے معجزات ہیں۔