کلید دعوت — Page 108
جلالت کو ہے کیا کیا ناز اس پر که شہنشاہ ہے وہ بحر و زہے قسمت جو ہو اک گوشہ حاصل ہمیں اس کی نگاہ فیض اثر کا 1 کا اخبار زمیندار لاہور ۹۔اکتوبر (۶۱۹) وہابی انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہیں شورش کا شمیری ایڈیٹر چٹان لکھتے ہیں :- انگریز کے اولی الامر ہونے کا اعلان کیا اور فتوی دیا کہ ہندوستان دار الاسلام ہے۔انگریز کا یہ خود کاشتہ پودا کچھ دنوں بعد ایک مذہبی تحریک بن گیا چنان لاهور ۱۵ اکتوبر ۱۹۷۳ء شماره نمبر ۴۲) پھر مدیر طوفان ملتان لکھتا ہے۔انگریزوں نے بڑی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ تحریک نجدیت کا پودا (یعنی اہل حدیث جسے وہابی تحریک یا تحریک نجدیت بھی کہتے ہیں، ہندوستان میں بھی کاشت کیا اور پھر اس وقت اسے اپنے ہاتھ سے ہی پروان چڑھایا۔(طوفان ہے۔نومبر ۱۹۶۲ء) انگریزوں سے جاگیریں کسے ملیں؟ حضرت بانی جماعت احمدیہ کو انگریزوں کی طرف سے کوئی جاگیر نہیں ملی تھی۔بلکہ انگریز حکومت نے تو آپ کے خاندان سے وہ بھی جائیدادیں چھین لیں جو آپ کے آباء و اجداد کی تھیں۔اس خاندان کے ساتھ جو انگریز حکومت نے سلوک کیا اس کا ذکر " پنجاب چیفس " میں درج ہے۔پنجاب کے الحاق کے وقت اس خاندان کی تمام جاگیریں ضبط کرلی گئیں۔کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا۔سوائے (چند گاؤں کے دو تین گاؤں پر مالکانہ حقوق تھے اور مرزا غلام مرتضی اور ان کے بھائیوں کیلئے سات سو روپے کی ایک پنشن مقرر کر دی گئی۔پنجاب چیفس صفحه ۲۱ عنوان گورداسپور ڈسٹرکٹ) اس کے برعکس جو انگریز حکومت کی طرف سے علماء پر نوازشات تھیں وہ بلاوجہ نہیں تھیں بلکہ ان تعریفوں کے نتیجہ میں انہیں جاگیریں ملی تھیں۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی کو انگریز کی خوشامد کے نتیجہ میں چار مربع زمین الاٹ ہوئی اور علامہ اقبال "سر" بن گئے۔مولوی مسعود عالم صاحب ندوی۔لکھتے ہیں۔ہندوستان کی جماعت اہل حدیث کے سرکردہ مولوی محمد حسین بٹالوی۔۔۔نے سرکار انگریزی کی اطاعت کو واجب قرار دیا۔جہاد کی منسوخی پر ایک رسالہ " الاقتصاد فی مسائل الجہاد" فارسی زبان میں تصنیف فرمایا تھا اور مختلف زبانوں میں اس کے تراجم بھی شائع کرائے تھے۔معتبر اور ثقہ راویوں کا بیان ہے کہ اس کے معاوضے میں سرکار انگریز سے انہیں جاگیر بھی