کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 302

کلام محمود — Page 71

ذلیل و خوار و رُسوا ہو جہاں میں جو حاسد ہو لڈو ہو بدگماں ہو عبادت میں کئیں دن رات اپنے ہمارا سر ہو تیرا آستاں ہو حشرا نے ہم کو دی ہے کامرانی نَسُبْحَانَ اللَّذِي أَدْنَى الْأَمَانِي ہماری اے خُدا کر دے وہ تقدیر کہ جس کو دیکھ کر حیراں ہو تدبیر ڈہ ہم میں قوت قدسی ہو پیدا جسے چھوویں رہی ہو جائے اکسیر زباں مرہم بنے پیاروں کے حق میں مگر اعداء کو کاٹے مثل شمشیر دہ جذبہ ہم میں پیدا ہو الہی جو دشمن ہیں کریں اُن کی بھی تسخیر دلوں کی فلموں کو دور کر دیں ہماری بات میں ایسی ہو تاثیر گناہوں سے بچالے ہم کو یارب نہ ہونے پائے کوئی ہم سے تقصیر خضر بن جائیں اُن کے واسطے ہم جو میں بھولے ہوئے رستہ کے رہ گیر وہی بولیں جو دل میں ہو ہمارے خلاف فعل ہو اپنی نہ تقدیر خدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ اللَّذِي أَدْنَى الْأَمَانِي عطا کر جاہ و عزّت دو جہاں میں بے عظمت زمین و آسماں میں نہیں ہم نُمبل بُستان احمد رہے برکت ہمارے آشیاں میں ہمارا گھر ہو مثل باغ جنت ہو آبادی ہمیشہ اس مکاں میں ہماری نسل کو یا رب بڑھائے ہمیں آباد کر کون و مکاں میں ہماری بات میں برکت ہو ایسی کہ ڈالے روح مرده استخواں میں الہی ! نور تیرا جاگزیں ہو زباں میں سینہ میں ، دل میں، وہاں میں