کلام محمود — Page 66
۔بادشاہوں کو غرض پر وہ سے کیا ہم نے کمپنی آپ ہی دیوار ہے وہ تو بے پردہ ہے پر آنکھیں ہیں بند کام آساں ہے مگر دشوار ہے پھوڑتے ہیں غیر سے مل کر تجھے یا الٹی اس میں کیا اسرار ہے خدمت اسلام سے دل مرد ہیں گرم کیا ہی کفر کا بازار ہے پارہ ہائے دل اُڑے جاتے ہیں کیوں یہ جگر کا زخم کیوں خونبار ہے تنگ ہوں اس بے وفا دُنیا سے میں مجھ کو یا رب خواہش دیدار ہے