کلام محمود — Page 65
۳۸ ورو ہے دل میں میرے یا خار ہے کیا ہے آخر اس کو کیا آزار ہے اف گناہوں کا بڑا انبار ہے اور میری جاں نحیف و زار ہے جلوۂ جانان و دید یار ہے خواب میں جو ہے وہی بیدار ہے اپنی شوکت کا وہاں اظہار ہے اپنی کمزوری کا یاں اقتدار ہے گو مجھے مدت سے یہ اصرار ہے منہ دکھانے سے انہیں انکار ہے کوئی خوش ہے شاد ہے سرشار ہے کوئی اپنی جان سے بیزار ہے میرے دل پر رنج وغم کا بار یہ ہاں خبر لیجے کہ حالت زار ہے میرے دشمن کیوں ہوئے جاتے ہیں لوگ مجھ سے پہنچا اُن کو کیا آزار ہے میری غمخواری سے میں سب بے خبر جو ہے میرے در پتے آزار ہے فکر دیں میں گھل گیا ہے میرا جسم دل میرا اک کو وہ آتشبار ہے کیا ڈراتے ہیں مجھے منبر سے وہ جن کے سر پر کھینچ رہی تلوار ہے میری کمزوری کو مت دیکھیں کہ ہمیں جس کا بندہ ہوں بڑی سر کار ہے اخبار بدر جلد ۱۰ - ۲۷ را پریل ساله