کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 302

کلام محمود — Page 44

مهم بهم ۲۳ وہ خواب ہی میں گر نظر آتے تو خوب تھا مرتے ہوئے کو آگے چلاتے تو خوب تھا اس بے وفا سے دل نہ لگاتے تو خوب تھا مٹی میں آبرو نہ ملاتے تو خوب تھا دلبر سے رابطہ جو بڑھاتے تو خوب تھا یوں عمر رائیگاں نہ گنواتے تو خوب تھا اک غمزدہ کو چہرہ دکھاتے تو خوب تھا روتے ہوئے کو آگے ہنساتے تو خوب تھا اک لفظ بھی زباں پر نہ لاتے تو خوب تھا دُنیا سے اپنا عشق چھپاتے تو خوب تھا نظروں سے اپنی تم نہ گراتے تو خوب تھا پہلے ہی ہم کو منہ نہ لگاتے تو خوب تھا محمود دل خدا سے لگاتے تو خوب تھا شیطاں سے دامن اپنا چھڑاتے تو خوب تھا یونسی پڑے نہ باتیں بناتے تو خوب تھا کچھ کام کر کے ہم بھی دکھاتے تو خوب تھا دنیائے دُوں کو آگ لگاتے تو خوب تھا کوچہ میں اس کے دھونی رماتے تو خوب تھا آب حیات پی کے خضر تم نے کیا لیا تم اس کی رہ میں خون نڈھاتے تو خوب تھا اے کاش! عقل عشق میں دیتی ہیں جو اب دیوانہ وار شور مچاتے تو خوب تھا مدرسے میں بھٹک رہے وادی میں عشق کی وہ خود ہی آکے راہ دکھاتے تو خوب تھا عزت بھی اس کی ڈوری میں بے آبروئی ہے کوچہ میں اس کے خاک اُڑاتے تو خوب تھا بحر گنہ میں پھر کبھی کشتی نہ ڈوبتی ہم نا خُدا حرا کو بناتے تو خوب تھا فرقت میں اپنا حال بنوا ہے یہاں ہو غیر احباب اُن کو جاکے سُناتے تو خوب تھا اخبار بدر جلد ۲۰۸ در جنوری نشته