کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 302

کلام محمود — Page 43

مکان دل میں لاکرئیں فہم سب کو رکھوں گا مُبارک اس سے بڑھ کر کوئی ماں ہونہیں سکتا وہ ہیں فردوس میں شاداں گرفتار بالا ہوں میں وہ فنگس ہو نہیں سکتے میں خنداں ہو نہیں سکتا معافی سے نہ جبتک وہ ہے سے سارے گناہوں کی جدا ہا تھوں سے میرے اس کا داماں ہو نہیں سکتا ہر اک دم اپنی قدر سکے انہیں مجھ سے کھاتا ہے جو اس کے ہور میں پھر ان سے پنہاں ہو نہیں سکتا ہزاروں حسرتوں کا روز دل میں خون ہوتا ہے بھی ویران یہ گنج ٹھیراں ہو نہیں سکتا مثال کو و آتش بار کرتا ہوں فغاں مردم بھی کا مجھ سے بڑھ کے سینہ بریاں ہو نہیں سکتا ہوں آنا منفعل اس سے کہ بو لانگ نہیں جاتا میں اسے منفرت کا بھی تو خواہاں ہو نہیں سکتا کیا تھا پہلے ان کا نوان اب جہاں سے کے پھو ٹینگے دیت کا بھی تو میں اس ڈر سے خواہاں ہو نہیں سکتا