کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 302

کلام محمود — Page 35

۲۵ IA محمد پر ہماری جاں فدا ہے کہ وہ کوئے صنم کا رہنما ہے مرا دل اس نے روشن کر دیا ہے اندھیرے گھر کا میرے وہ دیا ہے نمبر ے اے مسیحا درد دل کی ترے بمیار کا دم گھٹ رہا ہے دل آفت زدہ کا دیکھ کر حال مرا زخم جگر بھی ہنس رہا ہے کسی کو بھی نہیں مذہب کی پروا ہر اک دنیا کا ہی شیدا ہوا ہے بھنور میں پھنس رہی ہے کشتی دیں تلاطم بحجر بستی میں بپا ہے سروں پر چھا رہا ہے ابر ظلمت اُسی سے جنگ ہے جو ناخُدا ہے خدا یا اک نظر اس گفته دل پر کہ یہ بھی تیرے در کا اک گدا ہے غیم اسلام میں میں جاں بلب ہوں کلیجہ میرا منہ کو آ رہا ہے ہمارے حال پر ہنستی ہے گو قوم ہمیں پر اس پر رونا آ رہا ہے سیحا کو نہیں خوف وخطر کچھ حمایت پر تلا اس کی خدا ہے ہوئے ہیں لوگ دشمن امر حق کے اسی کا نام کیا صدق و صفا ہے حیات جاوداں ملتی ہر اس سے کلام پاک ہی آپ بہت ہے اخبار بدر جلد ۲۷ فروری شنبه