کلام محمود — Page 34
فلک سے تا منارہ آئیں میلے مگر آگے "تلاش نردباں ہے ترقی احمدی فرقہ کی دیکھے بٹالہ میں جو اک پیر مغاں ہے نہ یوں حملہ کریں اسلام پر لوگ ہمارے منہ میں بھی آخر زباں ہے مخالف اپنے ہیں گو زور پر آج مگر ان سے قوی تر پاسباں ہے کرا ڈوئی دم معجز نما سے یہ میٹی کی صداقت کا نشاں ہے مسلمانوں کی بدحالی کے غم میں دھرا مینہ پر اک سنگِ گراں ہے پریشاں کیوں نہ ہوں دشمن بسیما ظفر کی تیکر ہاتھوں میں عناں ہے نہیں دنیا میں جس کا بوڑ کوئی ہمارا پیشوا وہ پہلواں ہے کرے قرآن پر چشمک حد سے کہاں دوشمن میں یہ تاب و تواں ہے نہیں دنیا کی خواہش ہم کو ہرگز خدا دیں پر ہی اپنا مال و جاں ہے نہیں اسلام کو کچھ خوف محمود کہ اس گلشن کا احمد باغباں ہے