کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 302

کلام محمود — Page 31

14 نشان ساتھ ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں ہمارے دین کا قصوں پر ہی مدار نہیں وہ دل نہیں جو جدائی میں بے قرار نہیں نہیں وہ آنکھ جو فرقت میں اشکبار نہیں وہ ہم کہ فکر میں دیں کے ہیں قرار نہیں وہ تم کہ دین محمد سے کچھ بھی پیار نہیں دہ لوگ درگہ عالی میں جن کو بار نہیں اُنھیں فریب و دغا، نکر سے بھی عار نہیں ہے خوف مجھ کو بہت اسکی طبع نازک سے نہیں ہے یہ کہ مجھے آرزوئے یار نہیں تڑپ رہی ہے مری روح جسم خاکی میں برے ہوا مجھے اک دم بھی اب قرار نہیں نہ طعنہ زن ہو میری بے خودی پر اے ناصح میں کیا کہوں کہ میرا اس میں اختیار نہیں مثال آئینہ ہے دل کہ یار کا گھر ہے مجھے بھی سے بھی اس دہر میں غبار نہیں جو دل میں آئے سو کہ لو کہ میں بھی کہ گلف خُدا کے علم میں گر ہم ذلیل و خوار نہیں ہوا دہ پاک جو قدوس کا ہوا شیدا پلید ہے جسے حاصل یہ افتخار نہیں وہ ہم کہ عشق میں پاتے ہیں نُطف یکتائی ہمارا دوست نہیں کوئی غمگسار نہیں چڑھتے ہیں سینکڑوں ہی سولیوں پہ ہم منصور ہمارے عشق کا اک دار پر مدار نہیں یونسی کھو نہ ہمیں لوگو ! کافر و مرتد ہمارے دل کی خبر تم پر آشکار نہیں امام وقت کا لوگو گرد نہ تم انکار جو جھوٹے ہوتے ہیں وہ پاتے اقتدار نہیں اخبار بدر جلد ۶ - ، راکتو برنامه