کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 302

کلام محمود — Page 266

۲۶۶ ہر اک جاہل یہ باتیں سُن کے بھر جائے گا خستہ سے ہمارے قتل پر آمادہ ہر چھوٹا بڑا ہوگا دہ جن کے پیار و الفت کی قسم کھاتے تھے ہم ابتک ہر اک اُن میں سے کل پیایسا ہمارے خون کا ہوگا تعلق چھوڑ دیں گے باپ ماں بھائی برادر سب جو اب تک یار جانی تھا وہ کل نا آشنا ہو گا دہ جس کی محبت و مجلس میں دن اپنے گزرتے تھے ہمارے ساتھ اس کا کل سٹوک ناروا ہو گا ہماری سنگ باری کے لیے پھر چنیں گے سب سمبر میں ہر کس و ناکس کے اک خنجر بندھا ہو گا اکابر جمع ہو کر بھنگیوں کے گھر بھی جائیں گے کہیں گے گر کرو گے کام ان کا تو بڑا ہو گا اگر سودے کی خاطر ہم کبھی بازار جائیں گے ہراک تاجر کے گا جا میاں ! ورنہ بڑا ہو گا ہمارے واسطے دنیا بنے گی ایک ویرانہ ہوا اس یار جانی کے نہ کوئی دوسرا ہو گا ہمیں وہ ہر طرف سے ڈھانپ لے گا اپنی رحمت سے جو آنکھوں میں کیا ہو گا تو دل میں وہ چھپا ہو گا تبھی توحید کا بھی لطف آئے گا ہمیں صاحب زمیں پر بھی خدا ہوگا فلک پر بھی جدا ہو گا