کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 302

کلام محمود — Page 263

19۔یہ نظم بہت پرانی ہے نائبا ساہ کے لگ بھنگ کی کھو گئی تھی۔صرف حضور کو مطلع یا د رہ گیا تھا اور حضور نے منہ میں دوبارہ اسی مطلع پر نظر کسی تھی جو 9 نومبر شاہ کے الفضل میں شائع ہوئی۔اب کاغذات دیکھتے ہوئے پہلی نظر حضور کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی لگتی ہے۔جو ذیل میں شائع کی جارہی ہے۔) مریم صدیقہ ) ایک دل شیشہ کی مانند ہوا کرتا ہے ٹھیس لگ جائے ذرا سی تو صدا کرتا ہے میں نے پوچھا جو ہو کیوں چپ تو تنک کر بولے ہم بھرے بیٹھے ہیں جانے بھی دے کیا کرتا ہے دوستی اور وفاداری ہے سب عیش کے وقت آڑے وقتوں میں بھلا کون وفنا کرتا ہے چلتے کاموں میں مدد دینے کو سب حاضر ہیں جب بگڑ جائیں فقط ایک خدا کرتا ہے کیا بتاؤں تجھے کیا باعث خاموشی ہے میرے سینہ میں یومنی درد ہوا کرتا ہے ئیں تو بیداری میں رکھتا ہوں سنبھالے دل کو جب میں سو جاؤں تو یہ آہ و بکا کرتا ہے تم نے بھی آگ بھائی نہ کبھی آئے میری میری آنکھوں سے مرا دل یہ گلہ کرتا ہے درد تو اور ہی کرتا ہے تقاضا دل سے پر وہ اظہارِ محبت سے کہا کرتا ہے تھر میں زیست مجھے موت نظر آتی ہے کوئی ایسا بھی ہے عاشق جو بھیا کرتا ہے بیٹھ جاتا ہوں وہیں تھام کے اپنے سر کو جب کبھی دل میں میرے درد اُٹھا کرتا ہے * 1999 اخبار الفضل جلد ۵ - ۲۲ مارچ ۸