کلام محمود — Page 261
بلا کی آگ برستی ہے آسماں سے آج ہیں تیر پھٹ رہے تقدیر کی کہاں سے آج اُٹھ اور اُٹھ کے دیکھا زور محبت مت کا یہ التجا ہے ہری پیر اور جواں سے آج دہ چاہتا ہے کہ ظاہر کرے زمانہ پر ہمارے دل کے ارادے اس اہتماں سے آج جو دل کو چھید دے جا کر عدد مسلم کے وہ تیر نکلے الہی سری کماں سے آج خدا ہماری مدد پر ہے جو کہ میں مظلوم بنائے گا وہ مدد کو مرے جہاں سے آج جلا کے چھوڑیں گے اعدائے کینہ پرور کو نکل رہے ہیں جو شعلے دل کہاں سے آج ہزار سال مسلماں نے تجھ کو پالا ہے یہ فیقا تجھ میں اُبھر آیا ہے کہاں سے آج بو قلب مومن صادق سے اُٹھ رہی ہے دُعا اُتر رہے ہیں فرشتے بھی کہکشاں سے آج ہمارے نیک ارادوں پر اس قدر شبہات خُدا ضرور ہی بیٹے گا بدگماں سے آج عدد یہ چاہتا ہے ہم کو لا مکاں کردے ہمیں بھی آئے گی اعداد لا مکاں سے آج فرشتے بھر رہے ہیں اس کو اپنے دامن میں نکل رہی ہے دُعا جو میری زباں سے آج پڑے گی رُوح نئی جسم زار مسلم میں وہ کام ہو گا مرے جسم نیم جاں سے آج اخبار الفضل جلد ۹۴ - ۱۵ ستمبر شه ربوه - پاکستان -