کلام محمود — Page 256
۲۵۶ JAY کچھ دن کی بات ہے بارہ بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو زبان پر یہ اشعار جاری تھے۔گویا یہ غزل القائی ہے۔ہاں اتنا فرق ہے کہ پہلا شعر تو لفظ بلفظ یا د رہا ہے اور باقی اشعار میں سے اکثر ایسے ہیں جن کے بعض لفظ تو بھول گئے اور جاگنے پر خود اسکمی کو پورا کیاگیا اور دو تین شعر ایسے ہیں جو سارے کے سارے جاگنے پر بنائے گئے۔اب یہ سب اشعار اشاعت کے لیے الفضل کو بھجوائے جاتے ہیں۔) مرزا محمود احمد) اے خُدا دل کو میرے مزرع تقومی کر دیں ہوں اگر بد بھی تو تو بھی مجھے اچھا کر دیں میری آنکھیں نہ ہمیں آپ کے چہرہ سے کبھی دل کو وارفتہ کریں مجھ تماشا کردیں دانہ سخہ پراگندہ ہیں چاروں جانب ہاتھ پر میرے انہیں آپ اکٹھا کر دیں ساری دُنیا کے پیاسوں کو کروں میں سیراب چشمه شور بھی ہوں گر مجھے میٹھا کر دیں میں بھی اُس ستید بطحا کا غلام در ہوں دُم سے روشن مرے بنی داد تی بلا کر دیں ٹیڑھے رستہ پہ پہلے جاتے ہیں تیرے بندے پھیر لائیں اُنھیں اور راہ کو سیدھا کر دیں منتظر بیٹھے ہیں دروازہ پر عاشق اے رب تھوک دیں غصہ کو دروازہ کو پھر ڈا کر دیں احمدی لوگ ہیں دُنیا کی نگاہوں میں ذلیل اُن کی عزت کو بڑھائیں اُنہیں اُونچا کر دیں میرے قدموں پہ کھڑے ہو کے تجھے پکھیں لوگ رت ابرام مجھے اس کا مصلے کر دیں اختبار الفضل مجلد ۱- هر فروری شیشه ریوه - پاکستان مراد مسلمان ہیں کے ابراہیم علیہ السلام