کلام محمود — Page 255
دد ۱۸۵ کرد جان قربان راہ خدا میں بڑھاؤ قدم تم طریق دن میں فرشتوں سے مل کر اُڈو تم ہوا میں مہک جائے خوشبو تے ایماں فضا میں ہوا کیا کہ دشمن ہے ابلیس پیارو ندا نے نوازا ہے ہر دوسرا میں ہے قرآن میں جو سرور اور لذت نہ ہے مثنوی میں نہ بانگِ درا میں محبت رہے زندہ تیرے ہی دم سے تو مشہور عالم ہو مرونا میں خُدا کی نظر میں رہے تو ہمیشہ ہو مشغول دل تیرا ذکرِ خُدا میں تجھے غیر کے غم میں مرنے کی عادت مہارت ہے غیروں کو جور و جفا میں مساواتِ اسلام قائم کرو تم رہے فرق باقی نہ شاہ و گدا میں اخبار الفضل جلد ۱۰-۳۰ دسمبر ۵۶ه ربوه - پاکستان