کلام محمود — Page 247
۲۴۷ JAI میں نے مانا میرے دلبر تری تصویر نہیں تیرے دیدار کی کیا کوئی بھی تدبیر نہیں سب ہی ہو جائیں مسلماں تیری تقدیر نہیں یا دُعاؤں میں ہی میری کوئی تاثیر نہیں دل میں بیٹھے کہ سائے میری آنکھوں میں تو میری تعظیم ہے اس میں تری تحقیر نہیں دار با کیسا ہے جو دل نہ بٹھائے میرا پینے کے پار نہ ہو جائے تو وہ تیر نہیں ہے قیادت سے بھی پر لطف اطاعت مجھکو ہوں تو میں پیر مگر شکر ہے بے پیر نہیں صاف ہو جائے دل کا فر منکر جس سے تیری تقدیر میں ایسی کوئی تدبیر نہیں اس کی آواز پر پھر کیوں نہیں کہتے بیک طوق گردن میں نہیں پاؤں میں زنجیر نہیں مجھ سے وحشی کو کیا ایک اشارے میں رام کیا یہ جادو نہیں کیا رُوح کی تسخیر نہیں سبق آزادی کا دیتے ہیں دل عاشق کو اُن کی زُلفوں میں کوئی زُلف گرہ گیر نہیں کوئی دشمن اُسے کر سکتا نہیں مجھ سے جدا ہے تصور ترا دل میں کوئی تصویر نہیں ان کی جادو بھری باتوں پہ مرا جاتا ہوں قتل کرتے ہیں مگر ہاتھ میں تمشیر نہیں جس کی تمھی چیز اسی کے ہی حوالے کردی دے کے دل خوش ہوں میں اس بار دیگر نیں جس پر عاشق ہوا ہوں میں وُہ اسی قابل تھا خود ہی تم دیکھ لو اس میں میری تقصیر نہیں روح انسانی کو جو بخشے جلا ہے اکسیر مس کو چھو کر جو طلا ر کر دے وہ اکسیر نہیں اخبار الفضل جلد ۱۰۰۰ دسمبر ۹۵ لاہور - پاکستان