کلام محمود — Page 246
آدم سے لیکر آج تک پیچھا ترا پھوڑا نہیں شیطان ساتھی ہے تبر لیکن دو ہے میں انفرین گو بارہا دیکھا انہیں لیکن وہ لذت اور تھی دل سے کوئی پوچھے ذرا لطف نگاہ اولیس اُن سے اسے نسبت ہی کیا وہ نور میں یہ تار ہے گردہ بلائے تو ہمیں ان کے قدم میری جنہیں تو بار تو بہ توڑ کر بھکتی نہیں میری نظر ٹھکتی ہے نا کر وہ گنہ ان کی نگاہ شرمگیں آنے کو وہ تیار تھے میں خود ہی کچھ شرما گیا ان کو بھاؤں میں کہاں دل میں فائی تک نہیں ابدال کیا، اقطاب کیا، جبریل کیا ، میکال کیا جب تو خدا کا ہو گیا سب ہو گئے زیرنگیں اس پر ہوئے ظاہر محمد مصطفے جب انوری بالا ہے نہ افلاک سے کتر و بیو! میری زمیں کھولا ہے کس تدبیر سے باب لقائے دلربا آئے ہیں کس انداز سے اور سے بردار المرسلیس آدوست دامن تھام میں ہم مصطفے کا زور سے ہے اک میں بچنے کی رہ ہے اک میں جبل المیں کیا فکر ہے کھبکو اگر شیطاں ہے بازی لے گیا و نیا خُدا کی ملک ہے تیری نہیں میری نہیں * اخبار الفضل جلد ۸ - ۲۳ / نومبر له لاہور - پاکستان