کلام محمود — Page 236
161 دنیا میں یہ کیا فتنہ اٹھا ہے میرے پیارے ہر آنکھ کے اندر سے نکلتے ہیں شرارے یہ منہ ہیں کہ آہنگروں کی دھونکنیاں ہیں دل سینوں میں ہیں یا کہ پیروں کے پائے رائیں تو ہوا کرتی ہیں راتیں ہی ہمیشہ پر ہم کو نظر آتے ہیں اب دن کو بھی تارے ہے امن کا داروغہ بنایا جنہیں تو نے خود کرر ہے ہیں فتنوں کو آنکھوں سے اشارے اسلام کے شیدائی ہیں خونریزی پر مائل ہاتھوں میں جو بنجر ہیں تو پہلو میں کنارے یچ بیٹھا ہے اک کو نہ میں منہ اپنا ٹھکا کر اور جھوٹ کے اُڑتے ہیں فضاؤں میں غبارے ظلم وستم و جور بڑھے جاتے ہیں مد سے ان لوگوں کو اب تو ہی سنوارے تو سنوارے طوفان کے بعد اُٹھتے چلے آتے ہیں طوفاں لگنے نہیں آتی ہے میری کشتی کنارے گر زندگی دینی ہے تو اسے ہاتھ سے اپنے کیا جینا ہے یہ جیتے ہیں غیروں کے سہارے اخبار الفضل جلد ۶ - ۵ را گست ، لاہور - پاکستان۔