کلام محمود — Page 235
۲۳۵ 16۔لگ رہی ہے جہان بھر میں آگ گھر میں ہے آگ رہ گذریں آگ بھائی بھائی کی جان کا بیری لب پہ ہے مسلح اور بڑ میں آگ دشمنی کی پہلی ہوئی ہے کو بات بیٹی ہے پر نظر میں آگ کس پہ انسان اعتبار کرے زور میں آگ ہے تو زر میں آگ مٹی پانی کا ایک پتلا تھا بھر گئی کیسے پھر بستر میں آگ ابن آدم کو کو لگ گیا کیا روگ آگ ہے دل میں اور سر میں آگ کیسے نکلی ہے نور سے یہ نار باپ میں نور تھا پسر میں آگ کھا رہی ہے جیم دنیا کو شہر میں آگ ہے نگر میں آگ اُن کو جنت سے واسطہ ہی کیا ہو لگی جن کے نام دور میں آگ بن نہ بد خواہ تو کسی کا بھی خیر میں شمج ہے تو شعر میں آگ ابر رحمت خدا ہی برسائے ہے بھڑک اُٹھی بحر و بر میں آگ ۱۹۵۱ اختبار الفضل جلد ۶ - یکم اگست سه لا ہو ر پاکستان۔