کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 302

کلام محمود — Page 202

عاشقی تو وہ ہے جو کہ کسے اور سنے تری دنیا سے آنکھ پھیر کے مرضی کرے تیری جو کام تجھ سے لینا تھا وہ کام لے چکے پر ڈاہ رہ گئی ہے یہاں اب کیسے تری اتید کامیابی و شغل سرود و رقص یہ بیل چڑھ سکے گی نہ ہرگز منڈھے تری ہو ر در عشق تیری میرے دل میں جاگزیں تصویر میری آنکھ میں آکر بسے تری مٹ جاتے میرا نام تو اس میں حرج نہیں قائم جہاں میں عزت و شوکت ہے تیری میدان میں شیر نر کی طرح لڑکے جان نے گردن کبھی نہ غیر کے آگے مجھکے تری دل مانگ جان مانگ کے مذر ہے یہاں منظور ہے ہمیشہ سے خاطر مجھے تری نکلے گی وصل کی کوئی صورت کبھی ضرور چاہت تجھے مری ہے تو چاہت ہے تری سکتا ہے تو تو میں بھی ہوں اک منفرد وجود میرے سوا ہے آج محبت کسے تیری اخبار الفضل مجلد ۲ - لاہور پاکستان - ۲۱ جولائی شد