کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 302

کلام محمود — Page 162

۱۹۲ ہم کس کی محبت میں روڑے پہلے آئے تھے وہ کونسے رشتے تھے جو کھینچ کے لائے تھے آخر وہ ہوئے ثابت پیام ہلاکت کا جو غمزے میرے دل کو بیحد ترے بھائے تھے جن باتوں کو سمجھے تھے بنیاد ترقی کی جب غور سے دیکھا تو مٹتے ہوئے سائے تھے اکسیر کا دیتے ہیں اب کام وہ دنیا میں خون دل عاشق میں جو تیر بجھائے تھے تما غرق گنہ لیکن پڑتے ہی بنگہ اُن کی اشک آنکھوں میں اور ہا تھوں میں عرش کے پائے تھے یہ جسم مرا سر سے پا تک جو معطر ہے راز اس میں ہے یہ زاہد وہ خواب میں آئے تھے اس مریم فردوسی میں حق ہے ہمارا بھی کچھ زخم تری خاطر ہم نے بھی تو کھائے تھے اخبار الفضل جلد ۲۸ - ۳ / جنوری نشده