کلام محمود — Page 161
141 ۱۰۰ نہیں کوئی بھی تو مناسبت رو شیخ و طرز ایاز میں اُسے ایک آہ میں بل گیا نہ ملا جو اس کو نماز میں جو ادب کے محسن کی بجلیاں ہوں چمک رہی کف ناز میں تو نگاہ حُسن کو کچھ نہ پھر نظر آئے رُوئے نیاز میں تجھے اس جہان کے آئینہ میں جمال یار کی جستجو مجھے سو جہان دکھائی دیتا ہے چشم آئنہ ساز میں نظر آ رہا ہے وہ جلوہ حُسن ازل کا شمع مجاز میں کہ کوئی بھی اب تو مزا نہیں رہا قیس عشق مجاز میں مرا عشق دامن یار سے ہے کبھی کا جاکے پیسٹ رہا تری عقل ہے کہ بھنک رہی ہے ابھی نیب فراز میں ترے جام کو مرے خون سے ہی بلا ہے رنگ یہ دلفریب ہے یہ اضطراب یہ زیر و بم میرے سوز سے تیرے ساز میں اختبارا ر الفضل جلد ۲۸ - ۳/ جنوری ساله