کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 302

کلام محمود — Page 146

فی ہے ہم کو یہ فضل خدا سے جیب پاک حضرت مصطفے سے شد کولاک یہ نعمت نہ پاتے تو اس دُنیا سے ہم اندھے ہی جاتے گنجا ہم اور کتب مولیٰ کی باتیں کجا دن اور کجا تاریک راتیں رسائی کب تھی ہم کو آسماں تک جو اُڑتے بھی تو ہم اُڑتے کہاں تک خدا ہی تھا کہ جس نے دی یہ نعمت محمدی ہی تھے ہو لائے یہ فلکت پس اے میرے عزیزو میرے بتوں دل و جاں سے اسے اسے مجوب رکھو یہی ہے دین و دنیا کی بھلائی اسی سے دُور رہتی ہے بُرائی اسی سے ہوتی ہے راحت میتر اِسی میں دیکھتے ہیں رُوئے دبر میں لے جاتی ہے مولیٰ کے ڈر تک یہی پہنچاتی ہے مومن کو گھر تک خدایا اے میرے پیارے خُدایا اله العالیس رب البرايا ہو سب میرے عزیزوں پر عنایت ہے تجھ سے انہیں تقویٰ کی خلعت کلام اللہ پر ہوں سب دُه عامل نگا ہوں میں تیری ہوں نفس کامل بس اک تیری ہی ان کے دل میں جاہو نہ دیکھیں غیر کو کوئی ہو کیا ہو محبت تیری اُن کے دل میں رچ ملائے ہر اک شیطان کے پنجے سے بچ جائے علوم آسمانی اُن کو مل جائیں دلوں کی اُن کے کلیاں خوب کھل جائیں ترا السام بھی ہو ان پہ نازل تیرا اکرام بھی ہو ان کے شامل کریں تیرے فرشتے ان سے باتیں معارف کی نہیں سینوں میں نہریں ہر هراگ ان میں سے ہو شمع ہدایت بتائے اک جہاں کو راز قدرت دلوں کو نور سے ہوں بھرنے والے ہوں تیری رہ میں ہر دم مرنے والے بڑائی دشمنوں کی بھی نہ چاہیں ہمیشہ خیر ہی دیکھیں نگاہیں